خواب جس نے دنیا ہلا دی

اخبار بوسٹن گلوب کے خبروں کی وصولی کے کمرے میں نصب شدہ کلاک میں رات کے 3 بج رہے تھے ایسے میں اخبار کا رپورٹر بائرن اچانک نیند سے ہڑبڑا کر جاگ اٹھا۔ اس نے اپنے آپ کو ایک جھٹکا دیا تاکہ وہ اس خواب کے اثر کو زائل کر سکے جو اس نے ابھی ابھی دیکھا تھا۔
جب اسے یقین ہو گیا کہ اس نے جو کچھ دیکھا تھا وہ محض ایک خواب تھا تو اس نے سکون کا سانس لیا اسے لوگوں کی چیخ و پکار اب بھی صاف سنائی دے رہی تھی جو سمندر کے کھولتے ہوئے پانی میں دھکیلے جا رہے تھے جس میں وہ بری طرح تڑپ رہے تھے۔اسے وہ تمام منظر اس طرح دکھائی د رہا تھا جیسے وہ ہوا میں معلق ہو گیا ہو۔ پگھلا ہوا لاوا اور چٹانیں پہاڑ کے پہلو میں واقع کھیتوں اور گاؤں کے لوگوں کے سروں پر سے اڑ رہا تھا۔آتش فشاں پہاڑ کے ایک زبردست دھماکے نے جزیرہ پیر لیب کو ہوا میں اچھال دیا تھا۔جہاں آگ،خون اور کیچڑ کے مرغولے خوفناک سماں پیش کر رہے تھے۔ ارد گرد کا پانی جزیرے کی جگہ لینے کے لئے خوفناک آواز سے جزیرے میں داخل ہو رہا تھا اور سمندر میں جوار بھاٹا آیا ہوا تھ۔ آگ و خون، لوگوں کی چیخ و پکار اور سمندر کے جوار بھاٹا کی خوفناک آوازوں نے بائرن کو کسی حد تک مخبوط الحواس بنا دیا تھا اور وہ سام بوسٹن گلوب کے دفتر میں بیٹھا خیالات میں کھویا ہوا تھا۔
پھر کچھ ہی دیر بعد وہ خیالات سے حقائق کی دنیا میں آ گیا اس نے سوچا کیوں نہ یہ خواب بطور ریکارڈ محفوظ کر لیا جائے چنانچہ اس نے پنسل اٹھا کر خواب کی تفصیل لکھنا شروع کر دی کہ کس طرح جزیرہ پیر لیب کی تباہی نے لوگوں کو خوف و ہراس سے مخبوط الحواس بنا دیا تھا۔ اور وہ کس طرح پگھلے ہوئے لاوے کے سمندر میں پھنس گئے تھے۔
آتش فشاں پھٹنے سے جزیرہ لرز رہا تھا کشتیاں پانی کی سطر پر ہچکولے کھا رہی تھیں اور پورا جزیرہ آتش فشاں ہاڑ کے دہانے سے نکلی ہوئی آگ کے سمندر میں معلق ہو گیا تھا۔
بائرن سام نے کاغذ کے اوپر بہت ضروری کے الفاظ بھی لکھ دئیے اور اسے اپنی ٹیبل پر چھوڑ دیا۔
اگلی صبح یہ کاغذ اخبار کے ایڈیٹر کو ملا۔ اس نے سوچا یہ ضرور کوئی ایسی خبر ہے جو ٹیلیگرام کے زریعے موصول ہوئی ہے۔اور بائرن سام نے اس کی توجہ کے لئے اس پر بہت ضروری کے الفاظ لکھ دئیے تھے چنانچہ ایڈیٹر نے جلد از جلد یہ خبر اخبار کے سامنے والے صفحے پر دو کالمی سرخی میں شائع کر دی۔
اس خبر نے ساری دنیا میں تہلکہ مچا دیا اور بوسٹن دھڑا دھڑ فروخت ہونے لگا کیونکہ یہ خبر صرف اسی اخبار نے شائع کی تھی۔ ایڈیٹر نے یہ خبر ایسوسی ایٹڈ پریس کے حوالے کی جس نے اسے ساری دنیا میں پھیلا دیا۔ 29 اگست 1883 کو دنیا کے تمام اخبارات کی خبر یہی تھی۔ لیکن بوسٹن گلوب کے لئے یہ خبر دردِ سر بن گئی کیونکہ کئی ایک اخبارات نے اس خبر کی مزید تفصیلات طلب کیں جو کہ ایڈیٹر کے پاس موجود نہ تھیں۔جاوا کے جزیرے سے کوئی براہِ راست تعلق بھی قائم نہ تھا۔
اسی شام بوسٹن کا ایڈیٹر سام سے ملا۔ سام نے نہایت شرمساری سے بتایا کہ وہ سنسنی خیز خبر دراصل ایک خواب تھی۔
واس لائبریری نے بتایا کہ جاوا کے قریب پیر لیب نامی کوئی جزیرہ موجود نہیں ہے چنانچہ ایسوسی ایٹڈ پریس کو بھی اپنی جان بچانی مشکل ہو گئی اس نے ایک اعلی سطح کی کانفرنس منعقد کی۔ جس میں اس تکلیف دہ صورتِ حال سے نمٹنے اور کوئی معقول قدم اٹھانے کے متعلق غور و خوض کیا گیا۔اخبار بوسٹن نے اس خبر کی تردید کرنے اور معافی مانگنے کا فیصلہ کر لیا۔پھر ایک عجیب ہی واقعہ ظہور پذیر ہوا امریکہ کے مغربی ساحل سے یہ خبر موصول ہوئی کہ سمندری جوار بھاٹے نے ساحل پر تباہی مچا دی ہے۔مزید برآں ٹیلی گرام کے ذریعے ایک خبر اور موصول ہوئی کہ سمندری جوار بھاٹے سے کئی کشتیاں غرق ہو گئیں۔جس سے ہزاروں افراد لقمہ اجل ہو گئے۔ابھی بوسٹن گلوب نے تردید شائع نہیں کی تھی کہ ملک کے دوسرے اخبارات نے تشویشناک خبروں کو شائع کر دیا۔بعض لوگ تو آئے دن طوفان کی خبریں سننے کے لئے بے چین تھے۔ آسٹریلیا سے ایک خبر موصول ہوئی کہ یہاں کی فضاء توپ کے گولوں جیسی آواز سے لرز اٹھی ہے اور ساتھ ہی سمندر میں جوار بھاٹا اٹھ چکا ہے جو ساری دنیا میں پھیل چکا ہے۔
چند دنوں بعد امریکہ کے ساحل پر ایک جہاز لنگر انداز ہوا جس نے حیرت انگیز واقعات بیان کئے کہ جاوا کے قریب آبنائے سنڈا میں کراکاٹووا جزیرہ آتش فشاں پہاڑ پھٹنے سے سمندر میں غرق ہو گیا ہے اور اس جزیرے کے تمام باشندے ہلاک ہو گئے ہیں۔
جونہی یہ خبر موصول ہوئی اخبار بوسٹن گلوب نے اپنی پچھلی خبر کی تردید اور معافی نامہ چھاپنے کا ارادہ ترک کر دیا۔دوسرے اخبارات نے بھی اس خبر کو جلی حروف میں شائع کیا کہ کراکاٹووا کے حالات 27 اگست سے خراب ہونے شروع ہو گئے تھے اور یہ جزیرہ 28 اگست کو ٹھیک اسی وقت ڈوب گیا جب بائرن سام اپنے دفتر میں لیٹا خواب دیکھ رہا تھا۔ اس جزیرے کے غائب ہونے کو عظیم حادثہ قرار دیا گیا۔آتش فشاں پہاڑ پھٹنے سے جو دھماکہ ہوا وہ ساری دنیا کے زلزلہ پیما آلات پر ریکارڈ کیا گیا۔
لیکن سام کو تو خواب میں پیر لیب جزیرہ نظر آیا تھا جبکہ ڈوبنے والے جزیرے کا نام کراکاٹووا تھا۔ کراکاٹووا اور پیرلیب کے ناموں میں کئی سال اختلاف رہا۔حتی کہ ڈچ آسٹری سوسائٹی نے ایک نقشہ دکھایا جس میں کراکاٹووا کا پرانا نام پیر لیب ہی درج تھا۔ان کے خیال میں اس جزیرے کا نام گذشتہ 1050 سال سے متروک تھا۔

Comments

comments

//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں