شہر کے لوگ کہاں غائب ہو گئے

نومبر 1930 میں اسکیمو کے شہر میں کوئی چیز خلافِ توقع دکھائی دیتی تھی۔ ایک پولیس مین جوئی بھی اسے محسوس کئے بغیر نہ رہ سکا۔ وہ صورتِ حال معلوم کرنے کے لیے ٹھہر گیا۔برف سے لدی ہوئی تند ہواؤں سے جو جھیل انجی کونی کے اوپر اٹھ رہی تھیں۔ جھونپڑیوں کے کھلے کواڑوں میں لگے چمڑے کے پردے لٹک رہے تھے۔ہر طرف ہو کا عالم تھا کسی کتے کے بھونکنے کی آواز بھی سنائی نہیں دیتی تھی اور نہ ہی کسی انسان کا پتہ چلتا تھا۔ ماحول پر گہرا اور پر اسرار سکون طاری تھا۔
جوئی نے خود سے پوچھا لوگ کہاں چلے گئے؟۔ یہ ایک سوال تھا جس کا کوئی جواب کبھی نہ دیا جا سکا۔
اسکیمو کے اس شہر میں جوئی کے کئی دوست تھے۔ یہ شہر ماؤنیٹر(چرچل)کے شمال میں پانچ سو میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ جوئی اس دن ٹینڈرا کے منجمد خطے سے گزرتے ہوئے اسکیمو کے شہر کی طرف مڑا تھا تاکہ وہ اپنے دوستوں سے ملاقات کر سکے۔ لیکن اس کا استقبال کرنے والا صرف گہرا اور پر اسرار سناٹا تھا۔ اس نے شمال مغربی ماؤنیٹر کو رپورٹ دیتے ہوئے کہا کہ وہ شہر کے ایک سرے پر آ کر ٹھہر گیا اور اپنی آمد کی اطلاع دینے کے لیے پکارنا شروع کر دیا لیکن اسے کوئی جواب نہیں ملا۔ اس نے جھونپڑی میں ہرن کے چمڑے سے بنی ہوئی چنی اٹھا کر بھی پکارا مگر کوئی جواب نہ ملا۔
سارے شہر میں اسی طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ جوئی ایک گھنٹے تک اس شہر میں رہا تاکہ وہ شہریوں کی پر اسرار گمشدگی کے متعلق اندازہ لگا سکے۔ اس نے چولہوں پر پکانے کے برتن دیکھے۔ ایسا لگتا تھا کہ انہیں کئی ماہ پہلے آگ پر رکھا گیا تھا۔
جوئی کو ایک سؤر کی کھال سے بنے ہوئے بچوں کے ملبوسات بھی نظر آئے۔ ہاتھی دانت کی بنی ہوئی سوئیاں ابھی تک ان ملبوسات میں پیوست تھیں۔ جنہیں ماؤں نے جلدی میں سینا چھوڑ دیا تھا۔
دریا کے کنارے کشتیاں بھی موجود تھیں۔ ایک کشتی کے متعلق تو وہ جانتا تھا کہ یہ گاؤں کے سردار کی ہے۔یہ کشتیاں دریا کے پانی سے بوسیدہ ہو گئ تھیں۔ ان کی حالت سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ کافی عرصے سے وہاں رکھی گئی ہیں۔
جوئی کو ایک اور چیز نے بہت حیران کیا۔اسکیموؤں کی مشہورِ زمانہ بندوقیں دروازوں کے ساتھ کھڑی اپنے مالکوں کا انتظار کر رہی تھیں جو کبھی واپس نہیں آ سکے۔ ٹنڈرا کےانتہائی شمالی علاقوں میں بندوق کو بہت اہمیت دی جاتی ہے اور یہ فی الواقع زندگی کا بیمہ بھی سمجھی جاتی ہے۔کوئی اسکیمو ہوش و حواس کی حالت میں بلا بندوق کبھی لمبے سفر پر نہیں نکلتا تھا۔لیکن یہاں تو الٹا ہی معاملہ تھا۔ بندوقیں وہیں لٹکی ہوئی تھیں لیکن ان کے مالک غائب تھے۔
حیرت انگیز بات تو یہ تھی کہ کتے اپنی اپنی جگہ پر موجود تھے۔ حالانکہ اس لق و دق اور سنسان جگہ میں اسکیمو لوگ حفاظت کے لیے کتوں کو بھی ساتھ لے جاتے تھے۔
جوئی نے ایک خیمے سے سو گز کے فاصلے پر سات کتوں کو مرا ہوا پایا یہ کتے درختوں کی جڑوں سے بندھے ہوئے تھے۔ بعد میں کینیڈا کے ایک ماہرِ تشخیص الامراض کی تحقق سے پتہ چلا کہ وہ فاقہ کشی سے مرے تھے۔ اس معمہ کا سب سے پیچیدہ پہلو وہ قبریں تھیں جومردہ کتوں کی مخالف سمت میں خیمے کی ایک سمت بنی ہوئی تھیں۔ یہاں اسکیموں مروجہ طریقے سے اپنے مردے دفناتے تھے۔ ان قبروں کو وزنی سلوں سے ڈھانپا جاتا تھا۔ یہ تمام قبریں کھلی ہوئی تھیں اور ان میں سے مردے غائب تھے۔
ان قبروں کی تمام سلوں کو بڑی مہارت سے دو ڈھیروں کی شکل میں مجتمع کیا گیا تھا۔ قبریں کھولنا اسکیموؤں کے نزدیک سب سے قبیح فعل سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے ان سے اس قسم کی توقع نہیں کی جا سکتی، علاوہ ازیں کوئی جانور بھی اتنی مہارت سے وزنی سلیں نہیں ہٹا سکتا تھا۔ جوئی نے ماہرین کو اس شہر میں آنے کی دعوت دی تاکہ اس پر اسرار معمے کے راز سے پردہ اٹھایا جا سکے۔
ماہرین یہاں کوئی دو ہفتے تک موجود رہے۔ اس پر اسرار معمے کو حل کرنے کے لئے جو شہادتیں بھی مل سکتی تھیں حاصل کیں۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اسکیمو پچھلے دو ماہ سے اس شہر میں نہیں آئے۔ یہ اندازہ برتنوں میں کھانے پینے کی اشیاء کو دیکھ کر لگایا گیا تھا۔
اسکیموؤں کے اس شہر میں تیس باشندے تھے اور وہ بلکل نارمل زندگی بسر کر رہے تھے لیکن کسی نامعلوم وجہ کی بنا پر وہ اس شہر سے چلے گئے اور پھر کبھی واپس نہیں آئے۔ وہ اس شہر سے اتنی افراتفری میں نکلے تھے کہ انے ساتھ بندوقیں اور کتے بھی نہ لے جا سکے۔
یہ فرض کر لیا گیا کہ وہ ٹنڈرا کے دوسرے علاقوں میں منتقل ہو گئے ہیں۔ لیکن بڑے بڑے ماہر جاسوس بھی ان کا سراغ نہ لگا سکے۔ مہینوں کی صبر آزما تحقیق و تفتیش کے بعد بھی کسی اسکیموں کا سراغ بی نہیں لگایا جا سکا۔ ماؤنٹنڈ کی پولیس نے اس معمے کو ناقابلِ حل قرار دے کر اپنی فائل میں ٹانگ لیا۔
وہ کر بھی کیا سکتے تھے؟۔

Comments

comments

//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں