موت سے کھیلنے والے

بائیس آدمی اپنی جانیں بچانے کے لئے کئی مرتبہ سمندر کی غضب ناک لہروں سے نبرد آزما ہوئے اور وہ ہر جگہ کامیاب رہے۔ لندن میں بحریہ کے ضخیم ریکارڈ میں یوں تو کئی عجیب وغریب کہانیاں درج ہیں لیکن کوئی کہانی بھی اس واقعہ کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
یہ واقعہ 16 اکتوبر 1829 کو دو مستولوں والے جہاز مرمیڈ اور اس کے بائیس مسافروں کے ساتھ پیش آیا۔ یہ جہاز سڈنی کی خلیج کولبرے کے لئے روانہ ہوا تھا۔ ہوا موافق تھی اور چمکتا ہوا سورج سمندر کی لہروں کے پیچ و خم میں دکھائی دیتا تھا۔ جہاز مرمیڈ سمندر کی لہروں کو چیرتا ہوا اپنا راستہ بنا رہا تھا۔
اس پر اٹھارہ تجربہ کار ملاحوں کے ساتھ چار دوسرے مسافر بھی سوار تھے۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ وہ ایک ایسے سفر پر روانہ ہو رہے ہیں جو شاید سمندر کی تاریخ میں ایک بے نظیر سفر کی حیثیت اختیار کر لے گا۔
سڈنی سے روانہ ہونے کے چار دن بعد کپتان نے جہاز کا رخ قدرے نیچے کی طرف موڑ لیا۔ جہاز کے تمام مسافرے عرشے پر آرام کی نیند سو رہے تھے۔ بیرو میٹر نارمل تھا۔ بظاہر موسم بھی صاف اور نارمل تھا۔ دوپہر دو بجے سے پہلے زرد بادلوں کی ایک تہہ نے سورج کو ڈھانپ لیا۔ اس تبدیلی سے چوکنا ہو کر کپتان نے بیرومیٹر کا پھر سے معائنہ کیا۔ اس مرتبہ بیرومیٹر کا پارہ بڑی تیزی سے نیچے گر رہا تھا پھر جلد ہی طوفانی جھگڑ چلنا شروع ہو گئے۔ مرمیڈ کو اپنی جان بچانے کی فکر لاحق ہو گئی۔ بجلی کی غیر معمولی چمک سے کیپٹن خول برو نے محسوس کیا کہ وہ ایک عظیم طوفان کے خلاف نبرد آزما ہیں اور یہ کہ ان کی کوششیں بے سود ہیں۔ عرشے کے افراد مصروفِ پیکار تھے، تیز ہواؤں کی وجہ سے جہاز کا بادبان پختہ خربوزے کی طرح جھڑ گیا تھا۔
چند ہی لمحوں بعد جہاز اور اس کے مسافر گھمبیر تاریکی میں ڈوب گئے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے سمندر ابل پڑا ہے۔ مسافروں کے لئے امید کی صرف ایک کرن تھی اور وہ ایک نوکیلی چٹان تھی جو جہاز سے سو گز کے فاصلے پر موجود تھی۔ جہاز ڈوب رہا تھا اور تمام مسافر اس جہاز سے نکل کر اس چٹان کی طرف جا رہے تھے۔
پھر ایک معجزہ ہوا۔ اندھیرا چھٹ گیا اور اس کی جگہ روشنی نے لے لی۔ جہاز کے تمام مسافر نوکیلی چٹان کے ساتھ چمٹے ہوئے تھے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس حادثہ میں ایک بھی جان ضائع نہیں ہوئی۔ وہ مسلسل تین دن اور تین راتیں وہیں رہے تیسرے دن سوفٹ شور نامی ایک جہاز اس آبنائے میں پہنچا اور اس نے ان بائیس مصیبت زدہ مسافروں کو سوار کرایا۔
اگلے پانچ دنوں تک کوئی خلافِ معمول واقعہ پیش نہ آیا۔ پانچویں دن جب یہ جہاز نیوگنی کے ساحل پر پہنچا تو ایک بدقسمتی کا شکار ہو گیا یہ ایک بحری رو کی زد میں آ گیا جو نقشے میں موجود نہیں تھی۔ یہ رو جہاز کو سیدھا آگے شکستہ ساحل کی چٹانوں کی طرح دھکیل لے گئی۔ جہاز کے تمام مسافروں کو بچا لیا گیا۔
اس حادثے کے آٹھ گھنٹے بعد وہ سب ایک دوسرے دو مستولوں والے جہاز گورنرریڈی پر سوار تھے۔ اس جہاز میں پہلے بھی 32 مسافر موجود تھے۔ تاہم جہاز کے عملے نے پہلے دو غرق ہونے والے جہازوں کے مسافروں کے لئے گنجائش نکال لی تھی۔
یہ جہاز سمندر کے ساتھ آہستہ آہستہ چل رہا تھا اس میں ردی قسم کی لکڑی لدی ہوئی تھی۔ کسی نا معلوم وجہ سے اس میں آگ لگ گئی۔ شعلوں نے پورے جہاز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اس لئے تمام مسافروں کو جہاز چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا۔ جہاز کے تمام مسافر ایک نا پائیدار سی کشتی میں سوار تھے ان کے ارد گرد ہزاروں میل تک سمندر پھیلا ہوا تھا۔ بظاہر ان کے بچنے کے امکانات بہت کم تھے لیکن ان کی قسمتیں حیرت انگیز حد تک اچھی تھیں۔ کیونکہ کچھ ہی دیر بعد وہاں سے آسٹریلیا کا ایک جہاز کومٹ گزرا۔ اس مرتبہ بھی جہاز کے تمام مسافروں کو بحفاظت سوار کرا لیا گیا۔
کومٹ کے مسافر ان بدقسمت مسافروں کو ٹیڑھی نظر سے دیکھنے لگے۔ گو یہ لوگ خوش قسمت تھے لیکن انہیں منحوس خیال کیا جانے لگا تھا۔
ایک ہفتے بعد اچانک کومٹ ایک زبردست طوفان میں گھر گیا اس کے تمام پتوار گر گئے۔ اور یہ مکمل طور پر طوفان کے رحم و کرم پر رہ گیا۔
جہاز کے تمام مسافر ایک لمبی سی شکستہ کشتی میں سوار ہو گئے جو تباہ شدہ جہاز کے ساتھ بندھی ہوئی تھی اور ابھی تک ناقابلِ استعمال تھی۔ جہاز کے تمام مسافروں کو اپنی اپنی جانیں بچانے کی فکر لاحق ہو گئی۔ وہ اٹھارہ گھنٹے تک تباہ شدہ جہاز کے ملبے کے ساتھ چمٹے رہے۔ حتی کہ ایک دوسرا جہاز جوپیٹر وہاں سے گزرا اس نے ان مسافروں کو بے رحم شارک مچھلیوں سے نجات دلا کر سورا کر لیا۔ اس جہاز کے کپتان نے جب مسافروں کی گنتی کی تو یہ انکشاف ہوا کہ پچھلے چاروں تباہ شدہ جہازوں کے مسافروں میں سے ایک بھی ضائع نہیں ہوا۔
ابھی اس سرگزشت کا ایک حیرت انگیز پہلو باقی ہے۔ جہاز جوپیٹر پر یارک شائر کی ایک عمر رسیدہ خاتون سارا وچی سوار تھی۔ یہ خاتون آسٹریلیا میں اپنے بیٹے کو تلاش کرنے گئی تھی جو گذشتہ پندرہ سال سے لاپتہ تھا۔ اسے اپنا بیٹا جہاز جوپیٹر پر مل گیا۔ وہ سب سے پہلے تباہ ہونے والے جہاز مرمیڈ کے مسافروں میں سے ایک تھا۔
__________________

Comments

comments

//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں