پانی کے جہاز

کبھی آپ نے سوچا یہ ملک ملک گھومتے ، سامان تجارت پہنچاتے یہ بحری جہاز آخر کیسے ایجاد ہوئے . چلیں آج آپ کو سمندر کی تسخیر کی کہانی سناتے ہیں.
ویسے تو انسان کے اندر موجود جستجو کا مادہ اسے کبھی چین سے بیٹھنے نہیں دیتا چناچہ پانی میں تیرتی بطخیں دیکھ کر اسے بھی پانی میں سفر کرنے کا خیال آیا.
سب سے پہلی کشتی حضرت نوح علیہ السلام نے بنائی. جس میں انہوں نے دین حق کے پیرو کاروں اور جانوروں کے ایک ایک جوڑے کو سوار کیا، پھر اللہ کے حکم سے ایسے زور دار بارش برسی کہ اللہ کی واحدانیت سے انکار کرنے والے پوری دنیا سے مٹ گئے اور صرف وہی بچ گئے جو اس کشتی پر سوار تھے.
یہ جہاز یا کشتی کے وجود کا پہلا ثبوت تھا. 380 قبل مسیح میں فو نیشیوں نے بحری بیڑہ جنگی مقاصد کے لیے تیار کیا. یہ جہاز چپو سے چلتے تھے عرف عام میں انہیں گیلی کہا جاتا تھا. یہ جہاز مخصوص تکونی صورت میں تھے. یونانیوں اور رومیوں نے کم و بیش یہی انداز برقرار رکھا. ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی میں شمالی یورپ کے بحری قزاقوں وائی کنگ نے علیحدہ قسم کے لمبے جہاز استعمال کیے. ان جہازوں پر انہوں نے بحر اوقیانوس عبور کیا اور امریکہ تک جا پہنچے . یوں بعض مؤرخین کے نزدیک امریکہ کولمبس کی نہیں بلکہ انہیں بحری ڈاکؤں کی دریافت ہے.
شروع شروع میں تو تمام جہاز چپوؤں سے چلتے تھے پھر بعد میں چپوؤں کی جگہ بادبانوں نے لے لی . بادبانوں کا استعمال پندرہویں صدی عیسوی میں شروع ہوا. بادبان جہازوں کی ہوا کی طاقت کے بل پر چلتے تھے.
جہازوں میں بادبانوں کا رخ موڑنے کی سہولت بھی میسر تھی.بادبانی جہازوں جا استعمال ہسپانوی اور پرتگیزی ملاحوں نے شروع کیا. انہوں نے بادبانی جہازوں میں بڑے بڑے سفر کیے.
 کولمبس کی امریکہ کی دریافت ہو یا واسکو ڈے گاما کا سفر ہندوستان سب انہی بادبانی جہازوں پر کیے گئے۔
بھاپ کی طاقت کی تسخیر کے بعد جہازوں کو بھاپ سے چلانے کے لیے تجربات کیے گئے۔ 1783 میں فرانس میں ایک اسٹیمر چلایا گیا۔ 1786 میں امریکہ میں اسی نوعیت کا تجربہ کیا گیا۔ پہلے کامیاب جہاز کا نام ” شارلوٹ ڈینونڈاس” تھا جو کہ 1802 میں اسکاٹ لینڈ میں چلایا گیا۔

بعد ازاں 1816 میں دخانی جہاز کی مسافر بردار سروس رود بار انگلستان میں چلا کرتی تھی۔

پھر 1838 میں “سائرس” اور “ڈیپ ویسٹرن” نامی دخانی جہازوں نے بحراٹلانٹک عبور کیا 

آغاز میں تمام جہاز لکڑی کے ہی بنے ہوتے تھے بعد میں ان کی جگہ فولاد نے لے لی اور بھاپ کے انجن کی جگہ طاقتور ڈیزل انجن نے لے لی ، اب جہاز بہت تیز رفتار اور کثیر منزلہ ہو چکے تھے۔

کوئین میری اور کوئین ایلزبتھ ٹومی جہاز جدت اور آرام کا ایک حیرت ناک مجموعہ تھا۔

آج مسافر بردار جہاز ہوں یا مال بردار ، جنگی جہاز ہوں یا آئل ٹینکر ، تمام ہی ٹیکنالوجی کا ایک شاہکار ہیں۔

اب تو ایسے بحری بیڑے بن چکے ہیں جن پر ہوائی جہاز تک کھڑے کیے جا سکتے ہیں ۔ ایسے آبدوز کو بھی بحری جہاز کی ترقی یافتہ شکل کہا جا سکتا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ خواب سے خواب تک کا سفر کہاں پہنچ کر احتتام پزیر ہوتا ہے۔

اقتباس: ایجادات (عبدالرحمان)۔

Comments

comments

//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں