چلتی جائے گاڑی..!

سڑکوں پر فراٹے بھرتی۔۔۔۔ دھواں اڑاتی، رنگ برنگی گاڑیاں جانے کتنی ہی بار آپ کی نظر سے گُزرتی ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ اس وقت دنیا میں ساٹھ کروڑ سے زائد گاڑیاں موجود ہیں۔

کبھی آپ نے سوچا کہ گاڑی ایجاد کیسے ہوئی؟ چلیں آج آپ کو موٹر کار کی کہانی سناتے ہیں۔

دنیا کی پہلی گاڑی نکولس کینگوٹ کی بھاپ سے چلنے والی گاڑی کو کہا جاتا ہے جو عموماَ توپوں کو کھینچنے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ اس گاڑی کی رفتار تقریباَ اتنی ہی تھی جتنی کہ اہک عام آدمی کی پیدل چلنے کی رفتار۔ نکولس نے یہ گاڑی 1769 ء میں تیار کی تھی۔

نکولس نے 1770ء میں ہی پہلے سے کہیں بہتر گاڑی تیار کی جس کا اسٹیم بوائلر اس کی اگلی سیٹوں کے نیچے تھا۔ اس گاڑی میں پچھلی سیٹیں اور بریک بھی موجود تھی۔ گاڑی کا ڈھانچہ اور پہیے لکڑی کے تھے لیکن وہ ابھی تک چھت سے محروم تھی۔

پھر 1854ء میں بورڈینو کا ماڈل پیش کیا گیا۔ یہ گاڑی بھی بھاپ سے چلتی تھی۔ اس کا ڈھانچہ اسٹیل کا جبکہ پہیے لکڑی کے تھے۔

آج کل تو صرف ایک ڈرائیور گاڑی کو چلا لیتا ہے لیکن بورڈینو کو چلانے کے لیے ایک نہیں دو ڈرائیوروں کی ضرورت تھی۔ جبکہ دوسرا آگے بیٹھ کر اسٹیئرنگ اور بریک کی مدد سے گاڑی کو کنٹرول کرتا تھا۔ 1860 میں بیلجیم کے جین بوزف نے انٹرنل کمبشن انجن ایجاد کیا اس انجن کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں ایندھن یعنی کوئلہ اندر ہی جلتا تھا۔

 اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت فوراسٹروک انجن کی تیاری تھی۔ یہ انجن ایک فرانسیسی انجینئر الفانس روشاس نے تیار کیا تھا۔ تقریباَ اسی قسم کا انجن آج کل کی گاڑیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

اس کے بعد 1882ء میں جرمنی کے ڈیملر اور ویلبم میبیک نے فور اسٹروک انجن کو تجارتی بنیادوں پر تیار کرنا شروع کیا انہوں نے اس انجن کو ایک سائیکل فریم پر لگا کر دنیا کی پہلی موٹر سائیکل کی بنائی۔ 1889ء میں انہوں نے ایک لکڑی کی گاڑی میں انجن لگا کر ایک کار تیار کی ۔ اس کا ر میں باقاعدہ گیئر بکس اور کاربوریٹر ایندھن کو جلانے کے لیے پیٹرول اور ہوا کو باہم ملانے کا کام سرانجام دیتا ہے۔

ایک اور جرمن کارل بینز نے اپنے دوستوں میکسن روز اور اینلنگر کے ساتھ مل کر ایک کمپنی قائم کی جس کا مقصد ہلکے وزن کا انجن تیار کرنا تھا تاکہ اسے کار میں با آسانی نصب کیا جا سکے۔ 1886ء میں انہوں نے ایک کار پریس کے سامنے پیش کر دی جس کی خبریں اخبارات میں بھی شائع ہوئیں ۔ اس سے پہلے کے بینز تجارتی مقاصد کے لیے اپنی کار کی تیاری شروع کرتا اس کے ساتھی صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھے انہیں اس کاروبار میں جو ابھی تک سراسر گھاٹے کا سودا تھا کوئی فائدہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ مجبوراَ بینز نے بینز کمپنی فرانس کے ایک سائیکل ساز ایمل راجرز کے ہاتھوں فروخت کر دی۔ تقریباَ اسی دوران فرانس کے ایک انجینئر لیوازر نے 1891 میں ایک بہت بہتر کار سب کے سامنے پیش کر دی۔ اس کا انجن آگے کی جانب تھا جو موسم سے بچاؤ کے لیے مکمل طور پر ڈھکا ہوا تھا۔ اس میں ایک پاور اسٹیئرنگ ، ہینڈ اور فٹ بریک اور کلچ بھی موجود تھا۔ کار کی قیمت 3500 فرانک تھی۔

اس کے بعد 1890ء میں جرمنی کے ایک سائیکل ساز آرمنڈ پیجوٹ نے موٹر سازی کی دنیا میں قدم رکھا۔ اس نے اپنی کاروں میں ڈیملر کا تیار کروہ انجن استعمال کیا۔

بینز کمپنی نے 1892ء میں ایک سستی گاڑی وکٹوریہ فروخت کے لیے پیش کی جو اچھی خاصی تعداد میں فروخت ہوئی۔1894ء میں  وکٹوریہ سے کہیں سستی اور کم وزن گاڑی ویلو فروخت کے لیے پیش کی گئی۔ یہ گاڑی بہت مقبول ہوئی۔

اب کاروں کی تیاری کے تجربات اور ان کی تیاری پوری دنیا میں شروع ہو چکی تھی۔ اٹلی کے ایک پروفیسر ایرنیکو برنارڈی نے 1884ء میں ایک کار تیار کی اور دعویٰ کیا کہ یہ دنیا کی پہلی کار ہے۔ 1899ء میں اٹلی کی مشہور موٹر ساز کمپنی فیٹ نے اپنے کارخانے کا آغاز کیا ۔ 1896ء میں امریکہ میں ڈیوریا برادران نے امریکہ کی پہلی گاڑی فروخت کے لیے پیش کی۔

اور پھر 1926ء میں جرمنی کی ڈیملیر اور بینز کمپنی کے انضمام کے نتیجے میں دنیا کی ایک مشہور موٹر کار کمپنی “مرسڈیربینز” وجود میں آئی۔

اس کے بعد تو ترقی کا سفر تیز تر ہو گیا۔ اب دنیا میں شائد ہی کوئی ایسی گاڑی ہو جس کی رفتار 160 کلو میٹر سے کم ہو۔ آج جاپانی کاروں کی صنعت پوری دنیا میں چھائی ہوئی ہے۔ جاپانی کمپنی ٹویوٹا کے ماڈل “کرولا” کو دنیا میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کار کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

آج تو کاروں کی نت نئی اقسام مارکیٹ میں دستیاب ہیں ۔ جیپ، ٹرک، بس یہ سب بھی تو کا ر ہی کی ترقی یافتہ شکل ہیں۔ پھر وہ چپٹی چھوٹی برق رفتار ریسنگ کار گاڑی کی رفتار کو حد کی انتہاؤں تک پہنچا رہی ہے۔ گاڑی کا سفر تو ابھی تک چل رہا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ اس کی انتہا کہاں پہنچ کر ہوتی ہے

 

 

اقتباس : ایجادات (عبدالرحمٰن)۔

Comments

comments

//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں