37 سال تک یہ جہاز کہاں غائب رہا..؟

یہ ایک سچی کہانی ہے ایک ایسے جہاز کی جس نے 1955 میں نیویارک سے میامی کے لیے 57 مسافروں کے ساتھ اُڑان بھری اور ٹیک آف کرنے کے کچھ ہی منٹ بعد بادلوں میں کہیں کھو گیا
اور پھر 37 سال کے تاویل عرصہ تک یہ جہاز اور اس کے بد قسمت مسافروں کے بارے میں دنیا حیران رہی کہ اسے زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا؟
یہ گُتھی سالہا سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی سلجھ نہیں پائی تھی کہ اچانک 1992 کے ایک دن کیریاس، وینزویلا کے ایئرپورٹ پر ایک اجنبی جہاز کی آمد ہوئی جو “ڈی سی 4 فلائٹ نمبر 914” ریڈار پر آئے بغیر ظاہر ہوئی جس پر کنٹرول ٹاور کے عملہ نے پائلٹ سے رابطہ کیا کہ وہ کون ہے؟ اور کہاں سے آیا ہے؟
عملہ کی ناقابل شہادتوں اور ریکارڈ شُدہ گُفتگو کے مطابق پائلٹ کی آواز میں نا صرف خوف کا عنصر نمایاں تھا بلکہ اس کی گُفتگو بھی بے معنی اور اُلجھی ہوئی تھی۔ ڈپٹی منسٹر آف سول ایوی ایشن رامون اسواروار نے عینی شاہدین کی گُفتگو کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ مزکورہ جہاز صرف چند سیکنڈ کے لیے وہاں رُکا اور دوبارہ اُڑان بھرتے ہوئے غائب ہو گیا۔
اگرچہ ایک شہادت یہ بھی ہے کہ اس جہاز نے نیویارک سے فلائی کرنے کے بعد چند سیکنڈ کے لیے فلوریڈا کے ایئر پورٹ پر بھی لینڈ کیا تھا لیکن اصل معمہ یہ ہے کہ 37 سال تک یہ جہاز کہاں رہا؟
کیریاس کنٹرول ٹاور کی انتظامیہ کے مطابق یہ بلکل ایک غیر فطری اور عجیب واقعہ تھا جس میں انہوں نے دیکھا کہ ایک جہاز اچانک ایئر پورٹ کی حدود میں داحل ہو چُکا ہے لیکن ریڈار پر اُسے نہیں دیکھا جا سکتا۔ اُن کے بقول ہم نے جہاز کو اپنی آنکھوں سے دیکھا لیکن ریڈار کی سکرین پر اُس کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ ہم نے پائلٹ سے کہا کہ وہ ہم سے رابطہ کرے تو اس کی آواز آئی کہ ہم کہاں ہیں؟
جس میں خوف کا عنصر نمایاں تھالیکن باآخر وہ بتانے میں کامیاب ہوا کہ ہم یعنی فلائٹ نمبر 914 نیویارک سے میامی کے لیے اُڑے ہیں ہمارے ساتھ عملے کے چند افراد سمیت 57 مسافر بھی ہیں ۔ مینجر کے مطابق اس کے بعد رابطہ منقتہ ہو گیااور ہم حیران رہ گئے کہ یہا ں سے 1800 کلو میٹر دور اچانک یہ پرواز بغیر اطلاع کے کیسے پہنچی؟
دوبارہ رابطہ کے بعد ہم نے پائلٹ کو بتایا کہ تم جنوبی امریکہ کے علاقے وینزویلا میں ہو اور پوچھا کہ تم خوف زدہ کیوں ہو؟ لیکن کوئی جواب نہیں آیا اور پھر چند سیکنڈ بعد اس نے بہترین مہارت سے جہاز کو رن وے پر اُتار دیا۔ میں نے سُنا کہ وہ اپنے کوہ پائلٹ سے کہہ رہا تھا کہ جممی یہ کیا معاملہ ہے؟ اور ہم جہاز کو ایسے محسوس کر رہے تھے کہ شائد یہ کوئی خلائی طیارہ ہو۔
مینجر نے بتایا کہ پائلٹ کہ مطانق اسے 2 جولائی 1955 کو 9:55 صبح کے وقت میامی ایئر پورٹ پر اتارنا تھا پھر میں نے سنا کہ وہ کہہ رہا ہے کہ شائد کچھ غلط ہو گیا ہے۔ میں نے اس سے کنٹرول ٹاور بتانے کی کوشش کی کہ آج 21 مئی 1992 کا دن ہے اس نے اوہ مائی گاڈ کہا۔
میں سن سکتا تھا کہ اس نے ٹھنڈی سانس بھری تھی۔ مینجر ڈیلا کورٹ کے مطابق جب جہاز رن وے پر اترا اور ہمارے آئل ٹینکر نے ابھی اس کی طرف رُخ ہی کیا تھا کہ پائلٹ کی چلاتی ہوئی آواز آئی ہمارے قریب مت آنا ہم جا رہے ہیں۔ ایئر پورٹ کہ گراؤنڈ سروس ملازمین کے مطابق انہوں نے دیکھا کہ مسافروں کے چہرے جہاز کی کھڑکی کے ساتھ چپٹے ہوئے تھے۔ پائلٹ نے اپنے کاک پٹ ونڈو سے ہمیں خدا حافظ کہااور دوبارہ ہوا میں اڑان بھر کر ہماری نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
ہیڈ آف سول ایوی ایشن کے مطابق بظاہر یہ ایک ناقابل یقین واقعہ لگتا ہے لیکن پائلٹ اور ڈیلا کورٹ کے دومیان ہونے والی گُفتگو جس کا ریکارڈ آج بھی موجود ہے ایک ایسی مکمل اور مستحکم دلیل ہے کہ جس کی تردید شائد ممکن نا ہو
ناظرین محترم یہ ایک معمہ ہے سمجھنے کا نا سمجھنے کا جو آج کے سائنسی عروج کو چُھوتے ہوئے انسان سے ابھی تک حل نہیں ہو پایا۔ فضائی حادثات اگرچہ اپنا وجود رکھتے ہیں لیکن ان کی وجوہات کبھی بھی دنیا کی نظروں سے اوجھل نہیں رہ سکیں لیکن یہ تاریخ انسانی کا ایک انوکھا واقعہ ہے کہ ایک جہاز 57 مسافروں کے ساتھ اُڑان بھرے اور پھر 37 سال کی طویل مدت تک وہ سُلیمانی ٹوپی پہنے نگاہِ انسانی سے اوجھل رہے اور پھر اپنے ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے محض چند سیکنڈ کے لیے کسی ایئر پورٹ پر اُترے اور ایک ناقابلِ یقین ثبوت چھوڑتے ہوئے دوبارہ غائب ہو جائے
فیصلہ آپ پر ہے کہ کیا اس عجیب و غریب واقعہ کو تسلیم کیا جا سکتا ہے؟ آپ کی قیمتی آراء کا انتظار رہے گا۔۔۔۔۔۔

Comments

comments

//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں