دشت کی چیخ سنوں

دشت کی چیخ سنوں،،،،، اور پکاری جاوں
میں اگر عشق کے کربل سے گذاری جاوں

پیڑ پر نام لکھوں اور پرندے پالوں
ہجر ایسا ہے تو اس ہجر پہ واری جاوں

ناز بچوں کی طرح آن اٹھائے میرے
روز بگڑوں میں مگر روز سنواری جاوں

کوئی آنکھوں پہ مرے ہاتھ دھرے ، پوچھے کون ؟
کاش کھیلے وہ مرے ساتھ،، میں ہاری جاوں

زندگی ! دل ہی نہیں لگتا مرا جینے میں
تو اجازت مجھے دے دے مری پیاری ، جاوں ؟

لوگ سرسبز درختوں کو دعا دیتے ہیں
کون کرتا ہے یہاں اشک شماری ، جاوں

بستی والوں سے نہیں بنتی مری آخر کار
میں کسی اور جزیرے پہ اتاری جاوں

Comments

comments

//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں