دیچے سے جھانکتی وہ لڑکی

دیچے سے جھانکتی وہ لڑکی

عجیب دکھ سے بھری ہوئی ہے
کہ اس کے آنگن میں پھول پر
اک نیلی تتلی مری ہوئی ہے
کبھی اذانوں میں کھوئی کھوئی
کبھی نمازوں میں روئی روئی
وہ ایسے دنیا کو دیکھتی ہے
کہ جیسے اس سے ڈری ہوئی ہے
درود سے مہکی مہکی سانسیں
وظیفہ پڑھتی ہوئی وہ آنکھیں
کہ اک شمع میدان میں
کئی برس سے پڑی ہوئی ہے
وہ دکھ کی چادر میں لپٹی لپٹی
وہ کالے کپڑوں میں سمٹی سمٹی
محبت اس نے بھی کسی سے شاید
مری طرح ہی کی ہوئی ہے. ..!!

Comments

comments

//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں