مجھے شاخ شاخ سے توڑنا

مجھے شاخ شاخ سے توڑنا
پھر بیچ بیچ سے جوڑنا…
یہ ادا ادا بھی کمال ہے
یہ سزا سزا بھی کمال ہے…

یہ شام شام کے دھندلکے
اور قطرہ قطرہ سی بارشیں
مجھے پیاس پیاس میں ڈال کے
پھر دشت دشت میں چھوڑنا

یہ اداس اداس اداسیاں
اور دور دور کی دوریاں
مجھے اشک اشک بکھیر کے
پھر ہنس ہنس کر سمیٹنا

یہ آگ آگ کا کھیل ہے
اسے روز روز نہیں کھیلنا
مجھے ورق ورق کھولنا
پھر حرف حرف پہ سوچنا

یہ جفا جفا کے راستے
اور وفا وفا کی منزلیں
مجھے ڈھونڈ ڈھونڈ کے ڈھونڈنا
پھر چھوڑ چھوڑ کے چھوڑنا

وہ چہرہ چہرہ حجاب ہے
مرے درد درد کا علاج ہے
مجھے دور دور سے دیکھنا
مجھے مرض مرض کا بھولنا

یہ ادا ادا بھی کمال ہے
یہ سزا سزا بھی کمال ہے ..!

Comments

comments

//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں