نظارہ جمال میں شامل ہے آئینہ

نظارہ جمال میں شامل ہے آئینہ

اے شام قُرب اس کو نظر چھو تو لے مگر 

مشکل یہ ہے کہ راہ میں حائل ہے آئینہ؎

پھر اہل دل کو ہےتری بخشش کا انتظار 
پھر  تیرے خدوخال کا سائل ہے آئینہ؎

اک دن تو بن سنورکےمری سانس میں اتر 
اسں ریت ریت سانس کا حاصل ہے آئینہ؎

اک میں کہ تجھکو دیکھناچاہوں فلک تلک 
اک تُوں کہ تیری دید کی منزل ہے آئینہ؎

پلکوں سے کر کشید’ شعاعوں کے ذائقے 

دریائے رنگ و نور کا ساحل ہے آئینہ؎

محسن میں کچھ تو آپ ہی ٹکڑے ہوا مگر 
کچھ میری خواہشات کا قاتل ہے آئینہ؎

Comments

comments

//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں