وہی درپیش ہے پھر زندگی، خوابوں خیالوں کی

وہی درپیش ہے پھر زندگی، خوابوں خیالوں کی
کہاں ہے اب تمہاری وہ، محبّت اتنے سالوں کی ؟
اگر میرے مقدر میں، اندھیرا ہی اندھیرا تھا
کہانی کیوں سنائی تھی، مجھے تم نے اجالوں کی
بڑا ہے فرق دونوں میں، مگر دلچسپ ہیں دونوں
تیری دنیا جوابوں کی، میری دنیا سوالوں کی
تمھیں جب سے میں لکھتا ہوں، تمھیں جب سے میں پڑھتا ہوں
ضرورت ہی نہیں پڑتی، کتابوں کے حوالوں کی
تعلق جوڑنا اور توڑنا، تم سے کوئی سیکھے
کہاں سے آگئی تم کو، مہارت ایسی چالوں کی؟
شگفتہ دل کو رکھا ہے، فقط اس واسطے محسنؔ
ضرورت پھر نہ پڑ جائے، تمھیں میری مثالوں کی ..!!
شاعر: سید محسنؔ نقوی

Comments

comments

//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں