ہم نے دیکھی ھے 

ہم نے دیکھی ھے 
اِن آنکھوں کی مہکتی خوشبو
ہاتھ سے چُھو کے اِسے
رشتوں کا الزام نہ دو
صرف احساس ھے یہ
رُوح سے محسوس کرو
پیار کو پیار ہی رہنے دو
کوئی نام نہ دو
پیار کوئی بول نہیں
پیار آواز نہیں
ایک خاموشی ہے
سنتی ھے ، کہا کرتی ہے
نہ یہ بُجھتی ھے نہ رُکتی
نہ ٹھہری ھے کہیں
نُور کی بُوند ھے
صدیوں سے بہا کرتی ہے.
مُسکراہٹ سی کِھلی رہتی ہے
آنکھوں میں کہیں
اور پلکوں پہ اُجالے سے
جُھکے رہتے ہیں
ہونٹ کچھ کہتے نہیں
کانپتے ہونٹوں پہ مگر
کتنے خاموش سے افسانے
رُکے رہتے ہیں
صرف اَحساس ہے یہ
رُوح سے محسوس کرو
پیار کو پیار ہی رھنے دو
کوئی نام نہ دو

گلزار

Comments

comments

//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں