مستقبل کی گاڑیوں کے پرزہ جات لکڑی کے گودے سے بنائے جاسکیں گے، جاپانی ماہرین

جاپان :مستقبل کی گاڑیوں کے پرزہ جات حیران کن مواد سے بنائے جاسکیں گے یعنی لکڑی کے گودے سے کاروں کو ہلکا اور زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جاپان میں تحقیق کار لکڑی سے ایک ایسا مضبوط مواد بنانے کی کوشش کررہے ہیں جو 10 سال کے دوران گاڑی میں سٹیل کے پرزہ جات کی جگہ لے سکے۔

جاپان میں ہی ایسی پلاسٹک تیار کرنے پر بھی تیزی سے کام جاری ہے جو شدید درجہ حرارت کو برداشت کر سکے اور انجن کے اندر دھات کے پرزوں کی جگہ استعمال ہو سکے۔یہ تمام تجربات اس وسیع صنعت کا حصہ ہیں جو گاڑیوں کو ہلکا بنانا چاہتی ہے۔آئی ایچ ایس مارکیٹ کے پرنسپل آٹوموٹیو کومپو ننٹ انالسٹ پائلو مرٹینو کا کہنا ہے کہ ’گاڑیوں کا وزن ممکنہ حد تک کم کرنے کی جلدی پڑی ہوئی ہے، خصوصاً وہ گاڑیاں جو زیادہ آلودگی پھیلاتی ہیں، جیسے کہ ایس یو ویز یا ٹرک۔

پتلی گاڑیاں کم ایندھن استعمال کرتی ہیں۔ امریکی محکمہ توانائی کا کہنا ہے کہ گاڑی کے وزن میں 10 فیصد کمی سے ایندھن میں آٹھ فیصد تک بچت کی جا سکتی ہے۔جاپان کی کایوٹو یونی ورسٹی کے تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ لکڑی کے گودے سے ایسا مواد بنایا جا سکتا ہے جو سٹیل جتنا مضبوط ہو لیکن اس کے مقابلے میں 80 فیصد ہلکا ہو۔ایک ٹیم نے لکڑی کے گودے کا کیمیائی تجربہ کیا ہے جو کہ لاکھوں سیلولوس نینوفائبر یا (سی این ایفس) پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس تجربے کے بعد ان سی این ایفس کو پلاسٹک کی شکل میں ڈھالا گیا ہے۔

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ لکڑی کے گودے کے مرکبات یعنی سی این ایفس کو جب پلاسٹک کے ساتھ ملایا جاتا ہے تو ایک مضبوط اور ’ہائبرڈ‘ یعنی دو نسل کا ایک ایسا مواد بنتا ہے جو گاڑیوں کے پرزوں میں سٹیل کی جگہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔کایوٹو یونیورسٹی میں کی جانے والی تحقیق کے سربراہ پروفیسر ہیرویوکی یانو کہتے ہیں کہ یہ مواد گاڑیوں کے دروازوں، فینڈرز اور بونٹ میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق تحقیق کار اس مواد کی تیاری کے لیے جاپانی حکومت، کارساز اداروں اور صنعتکاروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

تحقیق کے دوران جاپان میں کئی کار ساز اداروں، پرزہ جات بنانے والے اور غیر ملکی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔وہ اپنے بنائے ہوئے مواد کا سب سے بڑا فائدہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے گاڑیوں کے وزن میں کمی آئے گی یہ آئندہ پانچ سالوں کے دوران سٹیل کا قبل عمل نعم البدل بن جائے گا۔

Source

Comments

comments

//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں