یہ جو سانپ سیڑھی کا کھیل ہے

یہ جو سانپ سیڑھی کا کھیل ہے
ابھی ساتھ تھے دونوں ہم نوا
وہ بھی ایک پر میں بھی ایک پہ
اسے سیڑھی ملی وہ چڑھ گیا
مجھے راستے میں ہی ڈس لیا
میرے بخت کے کسی سانپ نے
بڑی دور سے پڑا لوٹنا
زخم کھا کے اپنے نصیب کے
وہ ننانویں پر پہنچ گیا
میں دس کے پھیر میں گھر گیا
اسے ایک نمبر تھا چاہیے
جو نہیں ملا سو نہیں ملا
میں بڑھا تو بڑھتا چلا گیا
بس ایک چوکے کی بات تھی
پر اس سے جیتنا میری مات تھی
میں نے جان کر گوٹی غلط چلی
اور سانپ کے منہ میں ڈال دی
یہ جو پیار ہے؟؟؟
کبھی سوچنا
یہ بھی سانپ سیڑھی کا کھیل ہے۔

Comments

comments

//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں