مِیری آنکھیں خریدو گے

۔
مِیری آنکھیں خریدو گے
بہت مجبور حالت میں مجھے نِیلام کرنی ہیں
کوئی مجھ سے نقد لے لے تو
میں تھوڑے دام لے ُلوں گا
جو دِے دے پہلی بولی تو اِسی کے نام کر دوں گا
مجھے بازار والے کہہ رہے ہیں کم عقل تاجر
سنو لوگو
نہیں ہوں میں حرص کا خواہاں
نفع نقصان کی شطرنج نہیں میں کھیلنے آیا
بڑی محبوب ہیں مجھ کو یہ میری نیم تر آنکھیں
مگر اب بیچتا ہوں کہ
میں نے اِک خواب دیکھا تھا
اُسے اپنا بنانے کا
اُسے دل میں بسانے کا
مجھے اِس خواب کا تعاون بھرنا ہے
اِنہیں نِیلام کرنا ہے
اِنہیں نِیلام کرنا ہے

Comments

comments

//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں