گریاں، مچھلی اور انڈے کی زردی بچوں کیلئے بہتر

ایک حالیہ امریکی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ بچوں کی پیدائش سے قبل اگر ماں گریاں، مچھلی، انڈے کی زردی اور سبزیوں کا استعمال زیادہ کرے تو وہ بچے کی ذہنی نشو و نما کیلئے بہتر ہیں۔

ماہرین کی جانب سے حاملہ خواتین کو تجویز دی گئی ہے کہ وہ حمل ٹھہرنے کے تین سے چار ماہ بعد ان چیزوں کا کثرت سے استعمال کریں، کیوں کہ ان غذاؤں سے پیٹ میں پلنے والے بچوں کا میٹابولزم بہتر ہوتا ہے۔

سائنس جرنل ’دی فیسب‘ میں شائع امریکا کی کارنیل یونیورسٹی کے ماہرین کی رپورٹ کے مطابق حاملہ خواتین کو ابتدائی ایام کے بعد وٹامن بی کمپلیکس کی حامل غذاؤں کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق وٹامن بی کمپلیکس کی حامل غذاؤں کا ماں کے پیٹ میں پلنے والے بچوں کی ذہنی و جسمانی نشو و نما پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے حاملہ خواتین پر تحقیق کی گئی۔

تحقیق کے لیے 26 حاملہ خواتین کی خدمات لی گئیں، جنہیں 2 مختلف گروپوں میں تقسیم کرکے انہیں کئی ماہ تک وٹامن بی کمپلیکس کی حامل میٹابولزم کو بہتر بنانے والی غذائیں دی گئیں۔

ایک گروپ کی خواتین کو وٹامن بی کمپلیکس کی حامل غذائوں کی 450 ملی گرام جب کہ دوسرے گروپ کی خواتین کو 950 ملی گرام مقدار کی غذا دی گئی۔

آخر میں دونوں گروپوں کی خواتین کے پیٹ میں پلنے والے بچوں کی نشو و نما کا جائزہ لیا گیا، جس سے پتہ چلا کہ ان خواتین کے بچے ذہنی و جسمانی طور پر زیادہ بہتر تھے، جنہیں وٹامن بی کمپلیکس کی غذا زیادہ مقدار میں دی گئی۔

نتائج سے پتہ چلا کہ کم مقدار میں غذا کھانے والی خواتین کے پیٹ میں پلنے والے بچوں کی نشو و نما میں بھی بہتری آئی، تاہم ان کی رفتار ان بچوں سے کم تھی، جن کی ماؤں نے وٹامن بی کمپلیکس کی غذائیں زیادہ کھائیں۔

ماہرین نے حاملہ خواتین کو تجویز دی کہ وہ ابتدائی ایام کے بعد زیادہ سے زیادہ وٹامن بی کمپلیکس کی غذائیں کھائیں۔

رپورٹ کے مطابق پیٹ میں پلنے والے بچوں کے لیے گریاں (خشک میوہ جات)، ہری سبزیاں، انڈے کی زردی، مچھلی سرخ گوشت اور سرخ مرغی کا گوشت فائدہ مند ہوتا ہے۔

پیٹ میں پلنے والے بچوں کی بہتر ذہنی و جسمانی نشو و نما کے لیے حاملہ خواتین کو چوتھے مہینے سے یہ غذائیں استعمال کرنی چاہئیں۔

ماہرین نے بتایا کہ وٹامن بی کمپلیکس کی غذائیں بچوں کے ابتدائی 13 ماہ کے لیے نہایت اہم ہوتی ہیں، اس لیے ماؤں کو دوران حمل ان غذاؤں کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہیے۔

Source

Comments

comments

//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں