کاش ایسا کوئی منظر ھوتا

کاش ایسا کوئی منظر ھوتا مرے کاندھے پہ ، تیرا سر ھوتا جمع کرتا جو میں آئے ھُوئے سنگ سر چھپانے کے لیے ، اپنا گھر ھوتا. وہ جو ٹھوکر نہ لگاتے مجھ کو میں‌ کسی راہ کا ، پتھر ھوتا اِس بلندی پہ بہت تنہا ھُوں کاش ، میں سب کے برابر ھوتا اس مزید پڑھیں