حسن جب مہرباں ہو تو کیا کیجیے

حسن جب مہرباں ہو تو کیا کیجیے عشق کی مغفرت کی دعا کیجیے اس سلیقے سے ان سے گلہ کیجیے جب گلہ کیجیے ہنس دیا کیجیے دوسروں پر اگر تبصرہ کیجیے سامنے آئینہ رکھ لیا کیجیے آپ سُکھ سے ہیں ترکِ تعلق کے بعد اتنی جلدی نہ یہ فیصلہ کیجیے زندگی کٹ‌رہی ہے بڑے چین مزید پڑھیں

گُم اپنی محبت میں دونوں، نایاب ہو تم نایاب ہیں ہم​

گُم اپنی محبت میں دونوں، نایاب ہو تم نایاب ہیں ہم​ کیا ہم کو کُھلی آنکھیں دیکھیں، اِک خواب ہو تم اِک خواب ہیں ہم​ ​ کیا محشر خیز جُدائی ہے، کیا وصل قیامت کا ہو گا​ جذبات کا اِک سیلاب ہو تم، جذبات کا اِک سیلاب ہیں ہم​ ​ آنکھیں جو ہیں اپنے چہرے مزید پڑھیں

شبِ ہجراں تھی جو بسَر نہ ہوئی​

شبِ ہجراں تھی جو بسَر نہ ہوئی​ ورنہ کِس رات کی سحر نہ ہوئی​ ​ ایسا کیا جرم ہو گیا ہم سے​ کیوں ملاقات عُمر بھر نہ ہوئی​ ​ اشک پلکوں پہ مُستقل چمکے​ کبھی ٹہنی یہ بے ثمر نہ ہوئی​ ​ تیری قُربت کی روشنی کی قسم​ صُبح آئی مگر سحر نہ ہوئی​ ​ مزید پڑھیں

میں تو اہل ہوں کسی اور کا مری اہلیہ کوئی اور ہے 

میں تو اہل ہوں کسی اور کا مری اہلیہ کوئی اور ہے  میں ردیف مصرعۂ عشق ہوں مرا قافیہ کوئی اور ہے جو لغت کو توڑ مروڑ دے جو غزل کو نثر سے جوڑ دے  میں وہ بد مذاق سخن نہیں وہ جدیدیا کوئی اور ہے مجھے اپنے شعر کے سارقوں سے کوئی گلہ تو مزید پڑھیں

مجھے شاخ شاخ سے توڑنا

مجھے شاخ شاخ سے توڑنا پھر بیچ بیچ سے جوڑنا… یہ ادا ادا بھی کمال ہے یہ سزا سزا بھی کمال ہے… یہ شام شام کے دھندلکے اور قطرہ قطرہ سی بارشیں مجھے پیاس پیاس میں ڈال کے پھر دشت دشت میں چھوڑنا یہ اداس اداس اداسیاں اور دور دور کی دوریاں مجھے اشک اشک مزید پڑھیں

سلسلے جو وفا کے رکھتے ہیں

سلسلے جو وفا کے رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ حوصلے انتہا کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رکھتے ہیں !!! ہم کبھی بد دعا نہیں دیتے ۔۔۔۔۔۔۔۔ !! ہم سلیقے دعا کے ۔۔۔۔۔۔۔ رکھتے ہیں !!! اُن کے دامن بھی جلتے دیکھے ہیں ۔۔۔۔۔ وہ جو ۔۔۔۔۔۔۔۔ دامن بچا کہ رکھتے ہیں !!! ہم نہیں ہیں شکست کے قائل !! ہم سفینے مزید پڑھیں

گلاب ہاتھ میں ہو ، آنکھ میں سِتارہ ہو​

غزلِ​ پروین شاکر ​​ گلاب ہاتھ میں ہو ، آنکھ میں سِتارہ ہو​ کوئی وجودِ محبّت کا استعارہ ہو​ میں گہرے پانی کی اُس رو کے ساتھ بہتی رہُوں​ جزیرہ ہو کہ مُقابِل کوئی کنارہ ہو​​ کبھی کبھار اُسے دیکھ لیں، کہیں مِل لیں​ یہ کب کہا تھا، کہ وہ خوش بدن ہمارا ہو​​ قصور ہو مزید پڑھیں

دوستو پھر وہی ساعت وہی رُت آئی ہے

دوستو پھر وہی ساعت وہی رُت آئی ہے ہم نے جب اپنے ارادوں کا علَم کھولا تھا دل نے جب اپنے ارادوں کی قسم کھائی تھی شوق نے جب رگِ دَوراں میں لہُو گھولا تھا پھر وہی ساعتِ صد رنگ وہی صُبحِ جُنوں اپنے ہاتھوں میں نئے دور کی سوغات لیے محملِ شامِ غریباں سے مزید پڑھیں

‎کسی کی آنکھ جو پر نم نہیں ہے

‎کسی کی آنکھ جو پر نم نہیں ہے ‎نہ سمجھو یہ کہ اس کو غم نہیں ہے ‎سوادِ درد میں تنہا کھڑا ہوں ‎پلٹ جاؤں مگر موسم نہیں ہے ‎سمجھ میں کچھ نہیں آتا کسی کی ‎اگرچہ گفتگو مبہم نہیں ہے ‎سلگتا کیوں نہیں تاریک جنگل ‎طلب کی لو اگر مدھم نہیں ہے ‎یہ بستی مزید پڑھیں