اے شام

اے شام مت بول پیا کے لہجے میں اے شام مجھے برباد نہ کر مت بول پیا کے لہجے میں اے شام سکوت ہے  پہلے ہی,اس دل زخموں کے دریا میں تو اور اسے برباد نہ کر….. مت بول پیا کے لہجے میں… اے شام مجھے برباد نہ کر….

کچھ پنچھی جھنڈ میں اڑتے ہوں

کچھ پنچھی جھنڈ میں اڑتے ہوں اور رستہ بھی کچھ مشکل ہو کچھ دور افق پر منزل ہو اک پنچھی گھائل ہو جائے اور بے دم ہو کر گر جائے تو رشتے ناطے پیارے سب کب اس کی خاطر رکتے ہیں اس دنیا کی ہے ریت یہی جو ساتھ چلو تو ساتھی بہت جو رک مزید پڑھیں

کب ہم نے کہا تھا ہمیں دستار و قبا دو

کب ہم نے کہا تھا ہمیں دستار و قبا دو (احمد فراز) کب ہم نے کہا تھا ہمیں دستار و قبا دو ہم لوگ نوا گر ہیں ہمیں اِذنِ نوا دو ہم آئینے لائے ہیں سرِ کُوئے رقیباں اے سنگ فروشو یہی الزام لگا دو لگا ہے کہ میلہ سا لگا ہے سرِ مقتل اے مزید پڑھیں