‎کسی کی آنکھ جو پر نم نہیں ہے

‎کسی کی آنکھ جو پر نم نہیں ہے ‎نہ سمجھو یہ کہ اس کو غم نہیں ہے ‎سوادِ درد میں تنہا کھڑا ہوں ‎پلٹ جاؤں مگر موسم نہیں ہے ‎سمجھ میں کچھ نہیں آتا کسی کی ‎اگرچہ گفتگو مبہم نہیں ہے ‎سلگتا کیوں نہیں تاریک جنگل ‎طلب کی لو اگر مدھم نہیں ہے ‎یہ بستی مزید پڑھیں