نظارہ جمال میں شامل ہے آئینہ

نظارہ جمال میں شامل ہے آئینہ اے شام قُرب اس کو نظر چھو تو لے مگر  مشکل یہ ہے کہ راہ میں حائل ہے آئینہ؎ پھر اہل دل کو ہےتری بخشش کا انتظار  پھر  تیرے خدوخال کا سائل ہے آئینہ؎ اک دن تو بن سنورکےمری سانس میں اتر  اسں ریت ریت سانس کا حاصل ہے مزید پڑھیں

چلو چھوڑو!

چلو چھوڑو! محبت جھوٹ ہے عہدِ وفا اک شغل ہے بے کار لوگوں کا ’’طَلب ‘‘ سوکھے ہوئے پتوں کا بے رونق جزیرہ ہے ’’ خلش ‘‘ دیمک زدہ اوراق پر بوسیدہ سطروں کا ذخیرہ ہے ’’ خُمارِ وصل ‘‘ تپتی دھوپ کے سینے پہ اُڑتے بادلوں کی رائیگاں بخشش! ’’ غبارِ ہجر ‘‘ صحرا مزید پڑھیں