زنجیرِ جنوں کچھ اور کھنک ہم رقصِ تمنا دیکھیں گے

زنجیرِ جنوں کچھ اور کھنک ہم رقصِ تمنا دیکھیں گے دُنیا کا تماشہ دیکھ چُکے اب اپنا تماشہ دیکھیں گے ایک عمر ہُوئی یہ سوچ کے ہم جاتے ہی نہیں گلشن کی طرف تم اور بھی یاد آؤ گے ہمیں جب گُل کوئی کِھلتا دیکھیں گے کیا فائدہ ایسے منظر سے کیوں خود ہی نہ مزید پڑھیں