کاش ایسا کوئی منظر ھوتا

کاش ایسا کوئی منظر ھوتا مرے کاندھے پہ ، تیرا سر ھوتا جمع کرتا جو میں آئے ھُوئے سنگ سر چھپانے کے لیے ، اپنا گھر ھوتا. وہ جو ٹھوکر نہ لگاتے مجھ کو میں‌ کسی راہ کا ، پتھر ھوتا اِس بلندی پہ بہت تنہا ھُوں کاش ، میں سب کے برابر ھوتا اس مزید پڑھیں

مِیری آنکھیں خریدو گے

۔ مِیری آنکھیں خریدو گے بہت مجبور حالت میں مجھے نِیلام کرنی ہیں کوئی مجھ سے نقد لے لے تو میں تھوڑے دام لے ُلوں گا جو دِے دے پہلی بولی تو اِسی کے نام کر دوں گا مجھے بازار والے کہہ رہے ہیں کم عقل تاجر سنو لوگو نہیں ہوں میں حرص کا خواہاں مزید پڑھیں

کیوں چُراتے ہو دیکھ کر آنکھیں

کیوں چُراتے ہو دیکھ کر آنکھیں کر چکیں میرے دل میں گھر آنکھیں ضعف سے کچھ نظر نہیں آتا کر رہی ہیں ڈگر ڈگر آنکھیں چشمِ نرگس کو دیکھ لیں پھر ہم تم دکھا دو جو اِک نظر آنکھیں ہے دوا ان کی آتشِ رخسار سینکتے ہیں اس آگ پر آنکھیں کوئی آسان ہے ترا مزید پڑھیں

کہو ، وہ چاند کیسا تھا ؟

کہو ، وہ چاند کیسا تھا ؟ کہو ، وہ دَشت کیسا تھا ؟ جِدھر سب کچھ لُٹا آئے جِدھر آنکھیں گنوا آئے کہا ، سیلاب جیسا تھا، بہت چاہا کہ بچ نکلیں مگر سب کچھ بہا آئے کہو ، وہ ہجر کیسا تھا ؟ کبھی چُھو کر اسے دیکھا تو تُم نے کیا بھلا مزید پڑھیں

آج جانے کی ضد نہ کرو۔۔

آج جانے کی ضد نہ کرو۔۔ یونہی پہلو میں بیٹھے رہو۔۔ ہائے مر جائیں گے، ہم تو لُٹ جائیں گے۔۔ ایسی باتیں کیا نہ کرو۔۔ تم ہی سوچو ذرا، کیوں نہ روکیں تمہیں۔۔ جان جاتی ہے جب اٹھ کے جاتے ہو تم۔۔ تم کو اپنی قسم جانِ جاں۔۔ بات اتنی میری مان لو۔۔ آج جانے مزید پڑھیں

میرے وطن یہ عقیدتیں اور

میرے وطن یہ عقیدتیں اور پیار تجھ پہ نثار کر دوں محبتوں کے یہ سلسلے  بےشمار تجھ پہ نثار کر دوں میرے وطن میرے بس میں ہو تو تیری حفاظت کروں میں ایسے خزاں سے تجھ کو بچا کے رکهوں بہار تجھ پہ نثار کر دوں تیری محبت میں موت آئے تو اس سے بڑھ مزید پڑھیں

ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے 

ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے  وقت کی شاخ سے لمحے نہیں توڑا کرتے  جس کی آواز میں سِلوٹ ہو، نگاہوں میں شکن ایسی تصویر کے ٹکڑے نہیں جوڑا کرتے شہد جینے کا مِلا کرتا ہے تھوڑا تھوڑا جانے والوں کیلئے دِل نہیں تھوڑا کرتے لگ کے ساحل سے جوبہتا ہے اُسے بہنے مزید پڑھیں

درد پھیل جائے تو

درد پھیل جائے تو ایک وقت آتا ہے دل دھڑکتا رہتا ہے آرزو گزیدوں کے حوصلے نہیں چلتے دشتِ بے یقینی میں آسرے نہیں چلتے راہ روؤں کی آنکھوں میں منزلیں نہ جب تک ہوں ، قافلے نہیں چلتے ایک ذرا توجہ سے دیکھئے تو کھلتا ہے لوگ ان پہ چلتے ہیں, راستے نہیں‌ چلتے مزید پڑھیں

اور تو کچھ نہ ہوا پی کے بہک جانے سے 

اور تو کچھ نہ ہوا پی کے بہک جانے سے  بات مے خانے کی باہر گئی مے خانے سے کوئی پیمانہ لڑا جب کسی پیمانے سے  ہم نے سمجھا کہ پکارا گیا مے خانے سے دو نگاہوں کا جوانی میں ہے ایسا ملنا  جیسے دیوانے کا ملنا کسی دیوانے سے دل کی دنیا میں سویرا مزید پڑھیں