دشت کی چیخ سنوں

دشت کی چیخ سنوں،،،،، اور پکاری جاوں میں اگر عشق کے کربل سے گذاری جاوں پیڑ پر نام لکھوں اور پرندے پالوں ہجر ایسا ہے تو اس ہجر پہ واری جاوں ناز بچوں کی طرح آن اٹھائے میرے روز بگڑوں میں مگر روز سنواری جاوں کوئی آنکھوں پہ مرے ہاتھ دھرے ، پوچھے کون ؟ مزید پڑھیں

دیچے سے جھانکتی وہ لڑکی

دیچے سے جھانکتی وہ لڑکی عجیب دکھ سے بھری ہوئی ہے کہ اس کے آنگن میں پھول پر اک نیلی تتلی مری ہوئی ہے کبھی اذانوں میں کھوئی کھوئی کبھی نمازوں میں روئی روئی وہ ایسے دنیا کو دیکھتی ہے کہ جیسے اس سے ڈری ہوئی ہے درود سے مہکی مہکی سانسیں وظیفہ پڑھتی ہوئی مزید پڑھیں

 میری ہر سانس کہتی ہے

 میری ہر سانس کہتی ہے تمہارے دم سے چلنا ہے سفر زیست کی ہر منزل  تمہارے نام کرنی ہے  دھڑکتے دل کی ہر سر کو  تمہارے دل سے ملانا ہے  چمکتے چاند تاروں سے  کہیں آگے بہت آگے  مجھے کچھ خواب رکھنے ہیں جو صرف تمہارے میرے ہوں جہاں پر .. کوئ بشر نہ ہو مزید پڑھیں

وقت کے پار جا سکو تو سنو!!

وقت کے پار جا سکو تو سنو!! میرے کچھ لوگ وہاں رہتے ہیں۔ ۔ ان سے کہنا بہت اداس ہوں میں ان سے کہنا یہ دل نہیں لگتا ان سے کہنا بہت اکیلی ہوں ان سے کہنا میں رویا کرتی ہوں ان سے کہنا مجھے قرار نہیں ان سے کہنا ہے انتظار بہت ان سے مزید پڑھیں

چاند کا دکھ بانٹنے نکلے ہیں اب اہل وفا

چاند کا دکھ بانٹنے نکلے ہیں اب اہل وفا روشنی کا سارا شیرازہ بکھر جانے کے بعد زخم جو تم نے دیا وہ اس لیے رکھا ہرا زندگی میں کیا بچے گا زخم بھر جانے کے بعد شام ہوتے ہی چراغوں سے تمہاری گفتگو ہم بہت مصروف ہو جاتے ہیں گھر جانے کے بعد

خفا ہونا….!!

خفا ہونا….!! منا لینا….!!  یہ صدیوں سے روایت ہے…. محبت کی علامت ہے….!! گلے شکوے کرو مجھ سے…. تمہیں اس کی اجازت ہے….!! مگر یہ یاد رکھنا تم…. کبھی ایسا بھی ہوتا ہے….!! ہوائیں رخ بدلتی ہیں…. خزائیں لوٹ آتی ہیں….!! خطائیں ہوہی جاتی ہیں…. خطا ہونا بھی ممکن ہے….!! خفا ہونا بھی ممکن ہے…. مزید پڑھیں

غم نہ کر تیرے لیئے چراغ بن جاؤں گا

غم نہ کر تیرے لیئے چراغ بن جاؤں گا خود جل کر تیری راہ میں روشنی کر جاؤں گا  ڈر ہے کہ مجھ سے رسوائیاں نہ ملیں تمھیں ترک تعلق میں خود سے ہی کر جاؤں گا تیرے آنچل میں ہوں پھول خواہش میری اپنا دامن میں کانٹوں سے بھر جاؤں گا لاکھ بھلانے سے مزید پڑھیں

مجھے شاخ شاخ سے توڑنا

مجھے شاخ شاخ سے توڑنا پھر بیچ بیچ سے جوڑنا… یہ ادا ادا بھی کمال ہے یہ سزا سزا بھی کمال ہے… یہ شام شام کے دھندلکے اور قطرہ قطرہ سی بارشیں مجھے پیاس پیاس میں ڈال کے پھر دشت دشت میں چھوڑنا یہ اداس اداس اداسیاں اور دور دور کی دوریاں مجھے اشک اشک مزید پڑھیں

‎کسی کی آنکھ جو پر نم نہیں ہے

‎کسی کی آنکھ جو پر نم نہیں ہے ‎نہ سمجھو یہ کہ اس کو غم نہیں ہے ‎سوادِ درد میں تنہا کھڑا ہوں ‎پلٹ جاؤں مگر موسم نہیں ہے ‎سمجھ میں کچھ نہیں آتا کسی کی ‎اگرچہ گفتگو مبہم نہیں ہے ‎سلگتا کیوں نہیں تاریک جنگل ‎طلب کی لو اگر مدھم نہیں ہے ‎یہ بستی مزید پڑھیں