اب میں رویا نہیں کروں گا


گو کہ تیری جدائی میں
ہر شب بےچینی سے گزرے گی
دل کے اندھیر خانوں میں 
وحشتوں کا رقص ہوگا
گو کہ تجھ بن راتوں کو
میں اب سویا نہیں کروں گا
پھر بھی جان
اب میں رویا نہیں کروں گا
شب ہجر 
تیری یادوں کے سہارے گزار لوں گا
آنکھوں میں آئے اشکوں کو 
دل میں اتار لوں گا
اپنے چہرے کو جدائی کے آنسوؤں سے
بھگویا نہیں کروں گا
ہاں جان
اب میں رویا نہیں کروں گا
علی راسخ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں