بلیک اینڈ وائٹ تصاویر میں رنگوں کا واضح ہونا، یہ کیسے ممکن ہوتا ہے؟

انٹرنیٹ پر فریبِ نظر کا ایک نیا نمونہ وسیع پیمانے پر وائرل ہو رہا ہے۔

ناروے کے ایک مصور اوئوِند کولاس نے چند ایسی بلیک اینڈ وائٹ تصاویر تخلیق کی ہیں جو دیکھنے میں رنگین لگتی ہیں۔

یہ کیسے ہوتا ہے؟

اس کی ترکیب یہ ہے کہ آپ اصل تصاویر پر رنگین لکیروں کی ایک تہہ کھینچ دیں۔

مَنکر اِلوژن
لکیروں کی یہ رنگین تہہ کس طرح تصاویر پر زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے۔ دراصل یہ نظر کا دھوکا یا فریبِ نظر ہے۔

اس عمل کو رنگوں کا مشابہ ہونا کہتے ہیں جس میں ہمارا دماغ رنگوں کے گرد بے رنگ مقامات کو رنگین بنا دیتا ہے۔

کولاس رنگوں کی اس مشابہت یا مَنکر اِلوژن کی وضاحت اپنے پیج پر کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’رنگوں سے بھرپور تہہ کو جب سیاہ و سفید خانوں پر ثبت کیا جاتا ہے تو وہ رنگین نظر آنے لگتے ہیں۔‘

انھوں نے یہ تجربہ مختلف اشکال کے ساتھ دوہرایا جس سے اس تاثر کی شدت میں تو کمی بیشی ہوئی لیکن تصویر کی رنگینی برقرار رہے۔

سائنسی تاویل
رنگوں کی یہ مشابہت سائنسدانوں کے لیے نئی نہیں ہے۔

آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف سڈنی میں بصریات کے ماہر بارٹ اینڈرسن نے سائنس الرٹ ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’رنگین تہیں یا غلاف سادہ پس منظر سے گھل مل جاتی ہیں اور یوں تصویر کے رنگین ہونے کا تاثر ابھرتا ہے۔‘

جس طریقے سے ہم رنگوں کو ایک دوسرے سے علیحدہ کرتے ہیں اس کی بنیاد پر ہمارا دماغ تصویر کے ہر حصے کو رنگین تہہ اور بلیک اینڈ وائٹ پس منظر کے ساتھ ملا کر دیکھتا ہے اور ہمیں پوری تصویر رنگین نظر آتی ہے۔

مختصراً ہمارا دماغ بصری معلومات کو چھان کر اس وقت تک ہمیں اشیا کی ایک عمومی تصویر پیش کرتا ہے جب تک کہ ہم کسی چیز کا بہت غور سے جائزہ نہ لیں۔

آپ کو کیا لگتا ہے جب آپ اوپر دی ہوئی تصاویر کو زیادہ غور سے دیکھتے ہیں؟

کیا یہ آپ کو بلیک اینڈ وائٹ نظر آتی ہیں یا رنگین؟ اور جب آپ انھیں مزید غور سے دیکھتے ہیں تب؟

بشکریہ بی بی سی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں