بچے جھوٹ کیوں بولتے ہیں؟ قصور وار والدین یا ماحول

اکثر یہ دیکھتے اور سنتے ہیں کہ بچے چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھوٹ بولتے ہیں۔ زیادہ تر بچے مار یا ڈانٹ سے بچنے کے لیے اور والدین کی توجہ حاصل کرنے کے لئے بھی جھوٹ بولتے ہیں۔ کم عمری ہی سے کچھ بچے جھوٹ کا سہارا لینے لگتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ والدین ان کی ہر بات کو نہیں جان سکتے اس لیے وہ مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں۔

لیکن والدین ان کے چہرے کے تاثرات سے یہ اندازہ کرلیتے ہیں کہ بچہ جھوٹ بول رہا ہے۔جب بچے اسکول جانا شروع کرتے ہیں تو ان کی اس عادت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے اور وہ یہ بھی جان لیتے ہیں کہ بڑے ان کے جھوٹ کو نہیں پکڑ سکتے۔ا گرچہ بچہ مسلسل جھوٹ بولتا رہے تو سات سال کی عمر تک یہ عادت پختہ ہوجاتی ہے۔

جب بچے کو سچ اور جھوٹ میں فرق معلوم ہوجائے تو والدین کو چاہیے کہ ان کے جھوٹ بولنے پر انہیں سزا دیں ۔ جھوٹ بولنے کے نقصان اور سچ بولنے کے فوائد بتائیں ،ان کے سامنے مثال پیش کریں ۔ اس کے علاو ہ درج ذیل تجاویز پر عمل کر کے آپ اپنے بچے کی اس بری عادت کو ختم کر سکتی ہیں ۔

اگر بچے سے گھر کی کوئی بھی چیز ٹوٹ گئی ہے تو اس سے یہ نہیں پوچھیں کہ یہ کس نے توڑا ؟بلکہ کہیں، کوئی بات نہیں چلوں آؤ مل کر انہیں صاف کردیتے ہیں۔ ایسا کرنے سے بچے کو جھوٹ بولنے کا موقع ہی نہیں ملے گا۔ ہر اچھے کام میں ان کی حوصلہ افزائی کریں ،اس طرح ان کا اعتماد بڑھے گا اور وہ کسی بھی کام میں گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوگے۔

گھر میں ہر کام کے کچھ اصول مرتب کریں اور بچوں کو ان پر عمل کرنے کا پابند بنائیں ۔اس کے باوجود اگر وہ خلاف ورزی کریں تو انہیں اس بات پر سزا دینے کے بجائے انہیں سمجھائیں۔

سب سے اہم بات یہ کہ بچے کو بار بار جھوٹا نہیں کہیں ، اس طرح سے ان کے اعتماد میں کمی آئے گی اور وہ جھوٹ بولنے میں ہی عافیت جانے گا ۔

بچوں کو ہمیشہ ایسی کہانیاں سنائیں ،جن میں سچ اور جھوٹ کا فرق بتایا گیا ہو اور ایمانداری اور دیانت داری پر زور دیا گیا ہو ۔

بشکریہ : جنگ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں