بھارتی لڑکے کے منہ سے سوا پانچ سو دانت نکال دیے گئے

اس بچے کے منہ سے نکالے جانے والے پانچ سو چھبیس دانت
اس طویل آپریشن کو اس بچے کے معالج ڈاکٹروں نے دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد اور انتہائی منفرد واقعہ قرار دیا ہے۔ مجموعی طور پر ڈاکٹروں کو اس نابالغ لڑکے کے منہ میں 547 دانت ملے تھے۔

ان میں سے 526 چھوٹے بڑے دانت نکال دیے گئے اور اس کے منہ میں صرف 21 ایسے دانت رہنے دیے گئے، جن کے ساتھ ان طبی ماہرین کے مطابق ”اس بچے کی مسکراہٹ پہلے سے انتہائی مختلف اور خوبصورت ہو گئی ہے۔‘‘

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق جنوبی بھارت کے ساحلی شہر چنئی میں جب اس لڑکے کو علاج کے لیے لایا گیا، تو ڈاکٹر اس کے منہ کا ایکسرے کرنے کے بعد یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اس کے منہ کے نچلا حصہ دانتوں سے بھرا ہوا تھا۔

یہ دانت زیادہ تر اس کے نچلے جبڑے میں اگے ہوئے تھے۔ دانتوں کی اس انتہائی غیر معمولی موجودگی اور غلط نشو ونما کو طبی طور پر ‘اوڈونٹوما‘ (odontoma) کہتے ہیں۔

اس لڑکے کو ہسپتال سے فارغ کیا گیا، تو اس نے اپنے والد کے ساتھ گھر جاتے ہوئے کہا، ”مجھے اب کوئی درد نہیں ہو رہا‘‘

نچلے جبڑے میں دانتوں بھری تھیلی

آپریشن کے بعد چنئی شہر کے ایک ٹیچنگ ہسپتال کی ماکسیلوفیشیل پیتھالوجی کے شعبے کی سربراہ ڈاکٹر پرتیبھا رامانی نے بتایا، ”اس بچے کے نچلے جبڑے میں پوری ایک تھیلی تھی، جس میں سینکڑوں دانت موجود تھے۔ ان کا سائز صفر اعشاریہ ایک ملی میٹر سے لے کر 15 ملی میٹر تک تھا۔ ہم نے آپریشن کر کے ایسے کُل 526 دانت اس بچے کے منہ سے نکالے۔ طبی طور پر یہ سب دانت تھے، اس لیے کہ ان کی باقاعدہ بالائی سطحیں یا کراؤن بھی تھے اور جڑیں ہونے کے علاوہ ان پر باقاعدہ انیمل بھی بنا ہوا تھا۔‘‘

ہیلی ٹوسس
طب کی زبان میں منہ سے آنے والی بدبُو کو ہیلی ٹوسس کہتے ہیں۔ یہ منہ کی صفائی کا مناسب طریقے سے خیال نہ رکھنے اور کھانے پینے کی غلط عادات کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔

زبان
سانس کی بدبُو اکثر زبان، دانتوں اور مسوڑھوں پر موجود بیکٹیریا کی وجہ سے آتی ہے۔ زبان کو روز صاف کرنا چاہیے۔

بدبُو کہاں سے؟
جب بھی ہم کچھ کھاتے ہیں تو منہ میں رہنے والے بیکٹیریا تھوک کے ساتھ مل کر کھانے اور پروٹین کو مختلف اجزا میں توڑتے ہیں۔ تحلیل کے اس عمل کے دوران جو گیس خارج ہوتی ہے، وہی سانس کی بدبُو کا سبب بنتی ہے۔

دانتوں کے لیے ٹُول سیٹ
دانتوں کے لیے برش، زبان کی صفائی کے لیے دھات یا پلاسٹک کی پٹی اور دانتوں کے درمیان خلاء کو صاف کرنے کے لیے پلاسٹک یا ریشم کے دھاگے کے ساتھ دانتوں کی صفائی کا مکمل ٹُول سیٹ بنتا ہے۔ اس کے علاوہ منہ کی صفائی کے لیے بازار میں دستیاب مختلف طرح کے محلول بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

دانتوں کے درمیان کی جگہ
اگر کھانا کھانے کے دوران خوراک کے کچھ ٹکڑے آپ کے دانتوں کے درمیان موجود جگہ میں پھنس جایا کرتے ہیں تو پھر آپ کو اپنے دانتوں کی صفائی کا اور بھی زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔ کچھ بھی کھائیں لیکن بعد میں کُلّی ضرور کریں اور صبح شام دانتوں کو اچھی طرح برش کریں۔

ڈاکٹر سے مشورہ
اگر دانتوں کی صفائی کی تمام تر کوششوں اور تمام تر گھریلو ٹوٹکوں کے باوجود سانس کی بدبُو کم نہ ہو تو پھر آپ کو ڈاکٹر کے پاس جانے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔ کئی بار سانس کی بدبُو کسی بیماری کا اشارہ بھی ہوتی ہے۔

خشک منہ
خشک منہ کی بیماری Xerostomia کہلاتی ہے، جس میں تھوک کا بننا متاثر ہو جاتا ہے۔ تھوک کی کمی کی وجہ منہ میں زیادہ بیکٹیریا پنپ سکتے ہیں اور بدبُو کا سبب بن سکتے ہیں۔ بہت سے لوگوں میں ناک کی بجائے منہ سے سانس لینے کی عادت سے بھی ایسا ہوتا ہے۔

بچوں کی صحیح تربیت
چھوٹی عمر سے ہی بچوں میں دانتوں کی صفائی کی عادات ڈالنی چاہیے کیونکہ ٹافی، چاکلیٹ یا کوئی اور میٹھی چیز کھانے کے بعد دانتوں میں شکر کے باریک ٹکڑے پھنسے رہ جانے سے دانتوں میں کیڑا لگنے جیسے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔

چیوئنگ گم
اگر آپ گھر سے باہر ہیں اور برش کرنے جیسی سہولت میسر نہیں ہے تو فوری مدد کے لیے ہمیشہ اپنے پاس چیوئنگ گم رکھا کریں۔ اس تیز مہک سے منہ کی بدبُو دَب جاتی ہے اور تھوک کے ساتھ مل کر مہک پیدا ہوتی ہے۔

صحت بخش کھانا
تازہ پھل اور سبزیاں کھانے سے دانت اور مسوڑھے صحت مند رہتے ہیں۔ ایسے صحت بخش کھانے کی مقدار بڑھائیں۔ پیٹ صاف رکھیں اور دن میں کم از کم 10 گلاس پانی پینے کی کوشش کریں۔

مصنف: Ritika Rai / امجد علی
ڈاکٹروں کے مطابق اس لڑکے کے منہ سے جو سوا پانچ سو سے زائد دانت نکالے گئے، ان کا وزن مجموعی طور پر 200 گرام بنتا ہے۔ اب اس لڑکے کو ‘اکیس صحت مند دانتوں‘ کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کیا جا چکا ہے۔

مریض کو کوئی تکلیف نہ ہوئی

متعلقہ ہسپتال کی انتظامیہ کی طرف سے کہا گیا ہے، ”ہم نے اس لڑکے کے منہ سے جو سینکڑوں دانت نکالے ہیں، وہ طبی طور پر ہماری آج تک کی کارکردگی کی بہترین مثالوں میں سے ایک ہے۔‘‘

جب اس لڑکے کو علاج کے بعد ہسپتال سے فارغ کیا گیا، تو اس نے اپنے والد کے ساتھ خوشی خوشی اپنے گھر جاتے ہوئے کہا، ”مجھے اب کوئی درد نہیں ہو رہا۔‘‘

متعلقہ ہسپتال کی طرف سے یہ بھی کہا گہا ہے کہ اس بچے کا علاج مفت کیا گیا۔

اس سے قبل بھارت ہی میں ممبئی شہر کے ایک ہسپتال میں سن 2014ء میں بھی ایک نوجوان لڑکے کے جبڑے کی سرجری کی گئی تھی۔ تب ڈاکٹروں نے اس کے منہ سے مجموعی طور پر ‘اوڈونٹوما‘ کے نتیجے میں پائے جانے والے 232 دانت نکال دیے تھے۔

جان سِلک / م م / ع ح

News Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں