پاکستان امریکی ڈالر سے جان چھڑا بھی سکتا ہے یا نہیں

12 مئی 2019 کو پاکستانی حکومت کے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ چھ ارب ڈالر قرض کے معاہدے پر اتفاقِ رائے ہوا تو اُس وقت ملک میں ایک ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 141 روپے تھی۔

تاہم گذشتہ ایک ہفتے میں ڈالر کی قیمت میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور یہ 141 سے پہلے 148 روپے پر گیا جبکہ 21 مئی کو اوپن مارکیٹ میں ڈالر 152 روپے میں مل رہا تھا۔

دس دن میں ڈالر کی اس چھلانگ اور ان خدشات نے کہ آنے والے دنوں میں ڈالر مزید مہنگا ہو گا پاکستان میں اس بحث کو جنم دیا ہے کہ عوام کو ڈالر کا بائیکاٹ کر دینا چاہیے۔

اسی سلسلے میں پاکستانی سوشل میڈیا پر دو مختلف ٹرینڈز #SayNoToDollar اور #BoycottDollar چلتے رہے اور عوام نے جذباتی انداز میں اپنی آرا کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی خاطر ڈالر بیچ کر پاکستانی روپے خریدے جائیں یا پھر ڈالر کی خریداری کا بائیکاٹ ہی کر دیا جائے۔

ایسی جذباتی ٹویٹس سے قطع نظر اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی معاشی نظام واقعی ڈالر کا بائیکاٹ کر سکتا ہے اور کیا پاکستان عالمی تجارت میں امریکی کرنسی کے بجائے کسی اور دوست ملک کی کرنسی کا استعمال نہیں کر سکتا؟

کرنسی ہوتی کیا ہے؟
امریکی ڈالر اس وقت دنیا کی اہم ترین کرنسی ہے لیکن ڈالر کی اس حیثیت کی وجہ جاننے کے لیے پہلے اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کرنسی ہوتی کیا ہے۔

کسی بھی ملک کی کرنسی اس کی حکومت کی طرف سے ضمانت ہوتی ہے کہ وہ اس نوٹ کے عوض پیسے کی ذمہ دار ہے۔ مثلاً آپ کبھی پاکستانی 50 روپے کے نوٹ کو دیکھیں تو آپ کو اس پر لکھا ہوا نظر آئے گا: ‘بینک دولتِ پاکستان پچاس روپے حاملِ ہذا کو مطالبہ پر ادا کرے گا۔’

اب آپ اگر کسی دوسرے ملک سے جب کوئی چیز خریدتے ہیں تو وہاں کے شہری کے لیے تو بینک دولتِ پاکستان سے رقم لینا مشکل ہے۔

انھیں اپنے ملک کی کرنسی میں اپنے بازاروں میں چیزیں ملیں گی اور انھیں حکومتِ پاکستان کی پیسے ادا کرنے کی صلاحیت پر بھی شک ہوگا۔

مثلاً اگر کوئی پاکستانی جرمنی سے چیزیں خرید رہا ہے تو جرمن بیوپاری تو اپنی کرنسی یعنی یورو میں رقم مانگے گا تاکہ وہ اپنے ملک میں خریداری کر سکے۔

چلیں اگر اس پاکستانی نے یورو یورپ کے سنٹرل بینک سے خرید کر اس جرمن بیوپاری کو رقم ادا کر دی مگر پھر اس نے ویتنام سے بھی کپڑے خریدنے ہیں۔ اب اسے ویتنام کے سنٹرل بینک سے وہاں کی کرنسی خرید کر ادائیگی کرنی پڑے گی۔

پھر باری آئی تیل خریدنے کی، تو پاکستانی یا تو سعودی ریال خرید کر ادائیگی کرے یا ایرانی ریال خریدے۔

اس طرح تو عالمی تجارت کرنا بہت مشکل ہے کہ سارا وقت یہی مسئلہ رہے گا کہ ادائیگی کیسے ہوگی۔

اسی لیے عالمی تجارت میں لوگ متلاشی ہوتے ہیں کسی ایسی کرنسی میں لین دین کے جس کی حکومت پر انھیں سب سے زیادہ اعتماد ہو۔ اس کو عام اصطلاح میں ریزروو کرنسی کہا جاتا ہے۔

ڈالر اتنا طاقتور کیسے بن گیا؟
ایک وقت تھا جب برطانوی سامراج دنیا میں طاقت کی علامت تھا۔ اسی لیے 20ویں صدی کے آغاز تک دنیا میں سکہ رائج الوقت یا یوں سمجھیں کہ دنیا کی طاقتور ترین کرنسی برطانوی پاؤنڈ تھی۔

دوسری جنگِ عظیم کے بعد ایک طرف تو یورپی معیشتیں تباہ ہو چکی تھیں اور دوسری جانب امریکہ مغرب میں بڑی عالمی طاقت بن کر ابھرا۔

دوسری جنگ عظیم کے اختتامی مراحل میں جولائی 1944 میں بریٹن ووڈز نامی ایک مالیاتی نظام تشکیل دیا گیا جس کے تحت دنیا بھر کے 44 ممالک نے اپنی کرنسیوں کے پیچھے سونے کے ذخائر رکھنے اور کرنسی ریٹس کے حوالے سے شرائط پر اتفاق کیا۔

اب بریٹن ووڈز نظام کی بہت ساری چیزیں بدل چکی ہیں مگر یہ پہلا موقع تھا جب امریکی ڈالر دنیا کی ریزروو کرنسی بن کے سامنے آیا۔

اب کسی پاکستانی یا برازیلی نے کسی چینی یا جاپانی سے کپڑے خریدنے ہوں، چاول یا تیل یا کوئی بھی چیز خریدنی ہو تو عالمی منڈی میں ڈالر کے عوض ہر کوئی بیچنے کو تیار ہوتا ہے۔

کیا عالمی تجارت کے لیے ڈالر لازمی ہے؟
دنیا میں کوئی ایسا قانون نہیں ہے جس کے تحت دو ممالک کے درمیان لین دین کا ڈالر میں ہونا ضروری ہو۔

اگر پاکستان اور چین آج طے کر لیں کہ وہ چینی کرنسی یوآن میں ایک دوسرے سے لین دین اور تجارت کریں گے تو ان دو خود مختار ریاستوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔

ہاں البتہ مسئلہ یہ ہے کہ پھر قیمتوں کی اونچ نیچ اور کرنسی ریٹ کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے ادائیگی کی رقم کا تعین کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔

ماضی میں کئی مرتبہ ایسی کوششیں ہو چکی ہیں کہ لین دین اور تجارت کرنے کے لیے ڈالر کا استعمال ترک کر دیا جائے۔

سنہ 2005 میں سعودی عرب نے اعلان کیا تھا کہ وہ چین کو اپنا تیل یوآن کے عوض دینے پر غور کر رہا ہے۔

رواں سال کے آغاز میں ترکی نے کہا تھا کہ وہ ایران، چین اور یوکرائن کے ساتھ ڈالر کے بجائے مقامی کرنسیوں میں تجارت کرنے کا نظام بنا رہا ہے۔

مگر مسئلہ پھر وہی۔۔۔ کیا چینی تاجر ترک لیرا کے مستحکم رہنے کا سو فیصد اعتبار کر سکتے ہیں؟

کیا کوئی ملک ڈالر پر سے انحصار ختم کرنے میں کامیاب ہوا ہے؟
جن ممالک پر امریکہ نے اقتصادی پابندیاں لگا رکھی ہیں جیسے کہ ایران، تو اس صورت میں وہ اپنا تیل جب روس کو روسی کرنسی روبل میں بیچتے ہیں۔

اسی طرح انڈیا نے اپنے کچھ دفاعی ساز و سامان کی روس سے خریداری روسی کرنسی روبل کے ذریعے کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

تو کیا روسی کرنسی کے انڈین یا ایرانی تاجر اس بات کا مکمل یقین رکھتے ہیں کہ روس میں حالات اس قدر مستحکم ہیں کہ صدر پوتن کے خلاف کوئی بغاوت نہیں ہو سکتی اور روسی معیشت میں کوئی بحران نہیں آئے گا؟

آخر رقم اگر روسی کرنسی میں ملے گی تو ادائیگی کی حتمی ذمہ داری تو روسی سینٹرل بینک کی ہے نا۔

آج کل جیسے جیسے امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ بڑھتی جا رہا ہے، چین دیگر کئی ممالک کے ساتھ یوآن میں تجارت کرنے کی حامی بھرتا جا رہا ہے۔

چنانچہ دنیا بھر کے کئی ممالک میں متعدد بار یہ کوشش کی جا چکی ہے یا کی جا رہی ہے کہ امریکی ڈالر پر سے انحصار ختم کیا جائے۔

مگر ایک دو ممالک سے تو آپ معاہدے کر کے تجارت کر لیں گے، مگر چند ایک کے سوا آپ کو دیگر ممالک کے ساتھ تجارت کے لیے ڈالر ہی چاہیے۔

تو اس صورت میں یہ لازم ہوگا کہ آپ دنیا کے ہر ملک کے ساتھ الگ الگ تجارتی معاہدہ کریں، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے تجارتی قوانین، جن کا مقصد عالمی تجارت کو مستحکم بنانا ہے، ان سے آپ باہر ہو جائیں اور اپنی کرنسی کو ہر تجارتی ساتھی کی کرنسی کے ساتھ کلیئر کرنے کا نظام بنائیں۔

پاکستان اس معاملے میں کہاں کھڑا ہے؟
اب آتے ہیں پاکستان کی جانب۔ گذشتہ نومبر میں جب پاکستانی وزیراعظم عمران خان چین گئے تو وہاں پاکستان اور چین کی تجارت یوآن میں کرنے کے معاہدے پر بھی اتفاق ہوا۔

مگر پاکستان صرف چین کے ساتھ تو تجارت نہیں کرتا۔

پاکستان کے عالمی سطح پر تین بڑے اخراجات ہیں۔ ایک ہے آئی ایم ایف جیسے عالمی مالیاتی اداروں اور بین الاقوامی بینکوں سے لیے گئے قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی۔ وہ تو ظاہر ہے کہ امریکی ڈالر میں ہی ہوں گے۔

اس کے بعد آتا ہے دفاعی خریدوفروخت کا معاملہ۔ پاکستان ایف سولہ جنگی طیاروں سے لے کر ریڈار ٹیکنالوجی تک امریکہ سے بہت خریداری کرتا ہے۔ وہاں پر بھی آپ کو ڈالر کی ضرورت ہے۔

تیسرا بڑا خرچہ ہے تیل کی درآمد۔ اب یا تو پاکستان سعودی عرب اور دیگر ان تمام ممالک سے باری باری معاہدے کرے کہ آپ کا تیل ہم یوآن یا کسی اور کرنسی میں خریدیں گے اور وہ اس چیز پر مان بھی جائیں یا پھر پاکستان عالمی منڈی سے ڈالروں میں تیل خریدنے کا سلسلہ جاری رکھے۔

تو اگرچہ اصولی طور پر تو یہ ممکن ہے کہ پاکستان ڈالر سے جان چھڑا لے مگر عملی طور پر ایسا ممکن نہیں ہے۔ اگر ایسا کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ عالمی تجارت سے بالکل کٹ کر رہ جائیں گے۔

پاکستان کے پاس نہ تو اتنا عالمی اثر و رسوخ ہے کہ دیگر ممالک آپ کی خاطر ڈالر کو چھوڑ کر روپے میں تجارت کریں، نہ ہی پاکستانی روپیہ اتنا طاقتور۔ اس کے علاوہ ایسا کرنے کے لیے پاکستان کو ایک پیچیدہ کرنسی کلیئرنگ ایکسچینج بنانی پڑے گی جس پر دنیا بھر کا اعتماد ہو۔

کیا مستقبل میں ڈالر کی حیثیت تبدیل ہو سکتی ہے؟
امریکی ڈالر کو ہٹانے کی کوششیں ماضی میں ہوتی رہی ہیں اور آج بھی جاری ہیں۔ مگر یہ کرنا اس قدر مشکل اور پیچیدہ ہے کہ دنیا میں شاید ہی کوئی ملک ہو جو یہ کرسکتا ہے۔

چین امریکی منڈی میں اتنی تجارت کرتا ہے کہ وہ بھی ڈالر کو مکمل طور پر ہٹا نہیں سکتا۔

شاید شمالی کوریا جو کہ عالمی تجارت سے بالکل الگ تھلگ ہے اور زیادہ تر تجارت چین کے ساتھ کرتا ہے، وہ شاید واحد ملک ہے جو ایسا کر سکے۔

اب مستقبل میں عالمی حالات کس کروٹ بیٹھیں، چین یا روس عالمی طاقتیں بن جائیں، یوآن اور روبل کا سکہ سر چڑھ کر بولے اور امریکی معیشت پر سے دنیا کا اعتماد اٹھ جائے تو الگ بات فی الحال اس بات کو سمجھ لینا چاہیے کہ ابھی ڈالر کا راج کچھ اور وقت چلے گا۔

BBC Urdu

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں