کہاں ہے وہ کوئی پیغام بھی نہیں آتا

کہاں ہے وہ کوئی پیغام بھی نہیں آتا
زباں پہ اس کی مرا نام بھی نہیں آتا


کروں گا کیا میں سِوائے تری محبت کے
مجھے تو اِس کے سِوا کام بھی نہیں آتا


ذرا سی بات پہ وہ مجھ کو چھوڑ جائے گا
کہ اُس کو ڈھنگ سے یہ کام بھی نہیں آتا


مجھے یہ بات بہت دیر سے سمجھ آئی
بُرا ہو وقت کوئی کام بھی نہیں آتا


چلو کہ ارشیؔ یہاں اور کتنا بیٹھو گے
سنا ہے اب وہ سرِ عام بھی نہیں آتا


م الف ارشیؔ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں